این ایس سی کا ہنگامی اجلاس
اقوام متحدہ: ایران نے اپنے جوہری تنصیبات اور لیڈران پر حملے کے جواب میں اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کردی ہے۔ سلامتی کونسل نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے اعلیٰ عہدیدار کو خبردار کیا ہے کہ جوہری تنصیبات پر حملوں کے ’سنگین نتائج‘ ہو سکتے ہیں۔ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے کہا، ’’جوہری تنصیبات کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی کوئی بھی فوجی کارروائی ایران، خطے اور اس سے باہر کے لوگوں کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔‘‘
آئی اے ای اے کی جنرل کونسل نے کہا ہے کہ جوہری تنصیبات پر فوجی حملے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ اقوام متحدہ کی انڈر سیکریٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے ایران کی درخواست پر بلائے گئے کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کہا کہ ہمیں ہر قیمت پر بڑھتے تنازعات سے گریز کرنا چاہیے، جس کے عالمی نتائج بہت مہلک ہوں گے۔
روزمیری ڈی کارلو نے کہا کہ اتوار کے روز عمان میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے ساتھ ہی ’’اہم سفارتی پیش رفت‘‘ کے چلتے اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔ ایران نے اس مذاکرات سے دستبرداری اختیار کر لی۔‘‘ ڈی کارلو نے کہا، ’’ایران کے جوہری پروگرام کی پرامن نوعیت کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات کے ذریعے پرامن حل ہی بہترین خیال ہے۔‘‘
’’اب بھی بات چیت کے لیے تیار ہے امریکہ‘‘
امریکی محکمہ خارجہ کے سینئر اہلکار میک کوئے پٹ نے کہا کہ امریکہ اب بھی بات چیت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم امن چاہتے ہیں۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا – تشدد ختم ہونا چاہیے اور ایران کو ایک معاہدہ کرنا چاہیے، تاکہ ’مزید موت، مزید تباہی‘ نہ ہو۔‘‘
ایران کی قیادت کے لیے بات کرنا دانشمندی ہوگی
پٹ نے نے مزید کہا کہ امریکہ ایک ایسے سفارتی حل کی تلاش جاری رکھے گا جو اس بات کو یقینی بنائے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے، یا مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے خطرہ نہ ہو۔ اس وقت ایران کی قیادت کے لیے بات چیت کرنا دانشمندی ہوگی۔‘
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حملے سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنے میں مل سکتی ہے مدد: ٹرمپ
اپنے پہلے مدت کار کے دوران، امریکی صدر ڈونلڈ نے کچھ بین الاقوامی پابندیوں کو ہٹانے کے بدلے میں ایران کے جوہری بم کے لیے مواد تیار کرنے کے پروگرام کو روکنے کے لیے ایک بین الاقوامی معاہدے سے خود کو الگ کر لیا تھا۔ حالانکہ، حال ہی میں انہوں نے تہران کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کرنے کی کوشش کی اور اب ان کوششوں کو اسرائیل کی طرف سے ایران پر کیے گئے حملے نے روک دیا ہے۔
واشنگٹن پر اسرائیلی حملوں میں شامل ہونے کا الزام
دوسری جانب ایران کے مستقل نمائندہ امیر سعید ایرانی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے حملے کا مقصد ’سفارت کاری کو ختم کرنا، مذاکرات کو ناکام بنانا اور خطے کو وسیع تر تنازعے میں گھسیٹنا‘ تھا۔ اس کے ساتھ انہوں نے واشنگٹن پر اسرائیلی حملوں میں ملی بھگت کا بھی الزام لگایا ہے۔ وہیں، میک کوئے پٹ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ امریکہ اس حملے میں ملوث تھا، حالانکہ اسے پہلے سے ہی اس بارے میں اطلاع دی گئی تھی۔
بھارت ایکسپریس۔
3 ان 1 ٹی وی، او ٹی ٹی اور وائی فائی پلان کے نئے اور…
25 اور 26 ستمبر کو ہونے والی دو روزہ چوٹی کانفرنس میں خواتین صنعت کاروں،…
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں سیمسنگ الیکٹرانکس اور ایس کے ہائنکس…
پولیس نے اس معاملے میں 2 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ دونوں سے پوچھ…
ایشین گیمز 2026 کے دوسرے دن ہندوستان نے دو تمغے اپنے نام کیے تھے۔ 10…
دوسری جانب سری لنکا نے سیمی فائنل میں پاکستان کو 8 وکٹ سے شکست دے…