وزیرِ اعظم نریندر مودی کا لندن پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر بیرونِ ملک مقیم بھارتی شہریوں نے اپنے ہاتھوں میں ترنگا (بھارتی پرچم) تھام رکھا تھا اور “بھارت ماتا کی جے” کے نعرے لگا رہے تھے۔ وزیرِ اعظم مودی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کچھ تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا:
“برطانیہ میں بھارتی کمیونٹی کی جانب سے ملنے والے پرجوش استقبال سے میں بہت متاثر ہوں۔ بھارت کی ترقی کے لیے ان کا پیار اور جذبہ واقعی حوصلہ افزا ہے۔”
وزیرِ اعظم کا استقبال بھارتی نژاد افراد نے جوش و خروش سے کیا۔ اس دوران انہوں نے ہاتھوں میں ترنگا پکڑ رکھا تھا اور “بھارت ماتا کی جے” اور “مودی مودی” کے نعرے لگا رہے تھے۔ وہیں وزیرِ اعظم مودی نے ہاتھ جوڑ کر اور مصافحہ کرتے ہوئے سب کا خیر مقدم قبول کیا۔
وزیرِ اعظم مودی نے اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کے لیے فائدہ مند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے روزگار اور خوشحالی کے نئے دروازے کھلیں گے۔
لندن پہنچنے کے بعد ایکس پر پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے اس دورے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا:
“لندن پہنچ گیا ہوں۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو آگے بڑھانے میں کافی معاون ثابت ہوگا۔ ہمارا فوکس اپنے عوام کے لیے خوشحالی، ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر رہے گا۔ عالمی ترقی کے لیے بھارت اور برطانیہ کی مضبوط دوستی بے حد ضروری
ہے۔”
یہ وزیرِ اعظم مودی کا برطانیہ کا چوتھا دورہ ہے۔ انہیں برطانوی وزیرِ اعظم کئیر اسٹارمر نے مدعو کیا تھا۔ اس کے بعد وہ دو روزہ مالدیپ کے دورے پر جائیں گے۔
کئیر اسٹارمر کے وزیرِ اعظم بننے کے بعد نریندر مودی کا یہ پہلا برطانیہ دورہ ہے۔ ان کی ملاقات برطانوی بادشاہ کنگ چارلس سے بھی ہوگی۔ برطانیہ میں وزیرِ اعظم مودی دفاع، تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو وسعت دیں گے۔ بھارت-برطانیہ فری ٹریڈ ڈیل کو باضابطہ شکل دی جائے گی۔ اس کے بعد وہ مالدیپ روانہ ہوں گے۔