بین الاقوامی

Imran Khan taken to Hospital: عمران خان کو پانچویں بار علاج کے لیے اسپتال کیا گیا منتقل، بہن علیمہ خان نے حکومتی مؤقف پر اٹھائے سوال

اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان گزشتہ کئی ماہ سے آنکھوں کی تکلیف سے دوچار ہیں۔ پیر کے روز جیل انتظامیہ انہیں پانچویں مرتبہ علاج کے لیے اسپتال لے گئی، جس کے بعد ان کے اہلِ خانہ نے حکومتی مؤقف اور فراہم کردہ معلومات پر سوالات اٹھائے ہیں۔

علیمہ خان کا حکومتی دعوؤں پر عدم اعتماد

عمران خان کی بہن علیمہ خان نے منگل کے روز کہا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات پر انہیں بالکل اعتماد نہیں ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ 15 جون کی صبح انہیں اطلاع ملی کہ عمران خان کو ایک بار پھر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) منتقل کیا گیا ہے۔

طبی رپورٹس پر شکوک و شبہات

علیمہ خان نے الزام عائد کیا کہ اسپتال انتظامیہ ماضی میں بھی عمران خان کی صحت سے متعلق مشکوک دعوے کرتی رہی ہے۔ ان کے مطابق پہلے یہ کہا گیا تھا کہ عمران خان کی 90 فیصد بینائی بحال ہو چکی ہے، جبکہ خود عمران خان نے ان دعوؤں کی تردید کی تھی۔

پانچویں انجیکشن پر سوال

علیمہ خان نے سوال اٹھایا کہ اگر صورتحال قابو میں ہے تو عمران خان کو پانچویں مرتبہ انجیکشن دینے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہرین کی نگرانی میں کرایا جائے تاکہ علاج کے بارے میں تمام شکوک دور ہو سکیں۔

عدالتی احکامات پر عمل نہ ہونے کا الزام

علیمہ خان نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت عمران خان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور عدالتی احکامات کے باوجود خاندان کو ان سے باقاعدگی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عدالت نے ہر منگل کو خاندان کے چھ افراد کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی تھی، لیکن کئی ماہ سے اس حکم پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ ان کے مطابق جیل قوانین کے تحت عمران خان کو متعدد حقوق حاصل ہیں، جن میں اہلِ خانہ سے ملاقات، وکلا تک رسائی، کتابوں اور خبروں کے مطالعے کی سہولت اور مناسب طبی نگہداشت شامل ہے، لیکن ان حقوق کی مکمل فراہمی نہیں ہو رہی۔

اسپتال انتظامیہ کا مؤقف

انگریزی روزنامہ ’ڈان‘ کے مطابق اسپتال انتظامیہ نے بتایا ہے کہ عمران خان کو پیر کے روز فالو اپ علاج کے لیے پمز لایا گیا تھا۔ اسپتال کے مطابق انہیں آنکھوں کی بیماری کے علاج کے سلسلے میں ایک اور اینٹی وی ای جی ایف انجیکشن دیا گیا اور معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے ان کی حالت کو طبی اعتبار سے مستحکم قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان کی آنکھوں کا یہ مسئلہ جنوری کے آخر میں سامنے آیا تھا، جس کے بعد سے انہیں کئی مرتبہ انجیکشن دیے جا چکے ہیں۔

حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان الزام تراشی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ عمران خان کو مناسب اور شفاف طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں، جبکہ حکومت ان الزامات کو مسلسل مسترد کرتی آئی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Gurugram Police Release Dhruv Rathee: یوٹیوبر دھرو راٹھی کو گروگرام پولیس نے دیر رات کیا رہا، احتجاج میں شرکت نہ کرنے کی دی ہدایت

دھرو راٹھی گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج میں…

12 minutes ago

Union Commerce and Industry Minister Piyush Goyal: ہندوستان کی عالمی تجارتی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات ضروری: پیوش گوئل

پیوش گوئل نے کہا کہ ہندوستان کا ہدف مالی سال 2026-27 میں ایک ٹریلین ڈالر…

54 minutes ago

Prime Minister Narendra Modi: وزیر اعظم مودی سمیت ان لیڈروں نے لوک نائک جے پرکاش نارائن کو پیش کیا خراج عقیدت

وزیر اعظم نے اپنی پوسٹ میں مزید کہا کہ لوک نائک جے پرکاش نارائن اچھی…

2 hours ago