اداکار جمیل خان۔
ممبئی: معروف اداکار جمیل خان ان دنوں ویب سیریز ’گلّک‘ کے پانچویں سیزن کی کامیابی کے باعث خبروں میں ہیں۔ اس سیزن میں ان کی اداکاری کو ناظرین کی جانب سے بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔ شو کی تشہیری مہم کے دوران انہوں نے آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے سیٹ پر فنکاروں اور پوری یونٹ کے درمیان تعلقات کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
فنکار کا پُراعتماد ہونا ضروری
جمیل خان نے کہا کہ کسی بھی فنکار کے لیے کیمرے کے سامنے پُرسکون، پُراعتماد اور فطری انداز میں موجود ہونا بے حد ضروری ہے، کیونکہ کیمرہ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی نمایاں کر دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی فنکار معمولی سی بے چینی یا عدم اطمینان محسوس کرے تو اس کا اثر اس کے چہرے کے تاثرات، جسمانی زبان اور اداکاری میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اسی لیے سیٹ پر موجود پوری ٹیم مسلسل کوشش کرتی ہے کہ فنکاروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
کیا ہوتی ہے یونٹ کی ذمہ داری؟
اداکار کے مطابق یونٹ کے تمام افراد اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں تاکہ فنکار مکمل توجہ کے ساتھ اپنے کردار کو ادا کر سکے۔ اس میں ضروری سہولیات کی بروقت فراہمی، آرام دہ ماحول کی تشکیل اور دیگر بنیادی ضروریات کا خیال رکھنا شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک فنکار کی آواز، توانائی اور ذہنی توازن بھی بہترین اداکاری کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں، اسی لیے پوری ٹیم اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ فنکار پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔
سہولیات کو غلط انداز میں سمجھ لیا جاتا ہے
جمیل خان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات کچھ فنکار اس صورتحال کو غلط معنی پہنا لیتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ پوری ٹیم ان کی خدمت صرف اس لیے کر رہی ہے کیونکہ وہ بڑے ستارے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی سوچ آہستہ آہستہ غرور اور نخرے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ جب کوئی فنکار اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے ساتھ تکبر کا رویہ اختیار کرتا ہے یا بلاوجہ مطالبات کرنے لگتا ہے تو یہ بالکل غلط طرزِ عمل ہے۔
اسٹارڈم کا مطلب نخرے نہیں
جمیل خان نے زور دے کر کہا کہ فنکاروں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ انہیں دی جانے والی سہولیات اور عزت دراصل ان کی بہتر کارکردگی کے لیے ہوتی ہیں، نہ کہ انہیں دوسروں سے برتر ثابت کرنے کے لیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پوری ٹیم کی مشترکہ محنت ہوتی ہے تاکہ پردے پر فنکار کی کارکردگی مؤثر اور متاثر کن نظر آئے۔ اگر فنکار اس حقیقت کو سمجھ لیں تو وہ کبھی سیٹ پر نخرے نہیں دکھائیں گے اور نہ ہی اپنے ساتھیوں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کامیابی کے ساتھ عاجزی اور انکساری بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی شہرت اور مقبولیت۔
بھارت ایکسپریس۔
پروفیسر شاہد صدیقی نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو اردو سے جوڑنے کے لیے…
مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…
ڈاکٹر شمس اقبال نے اردو صحافیوں سے زبان کے معیار پر بھی خصوصی توجہ دینے…
بھارت ایکسپریس اردو کے تیسرے نیشنل کانکلیو میں اردو، صحافت اور نئی ٹیکنالوجی پر گفتگو،…
اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے شاہد صدیقی نے بتایا کہ وہ اردو اخبارات کے…
سری لنکا کی ناقص بیٹنگ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ…