بین الاقوامی

Imran Khan Adiala Jail : عمران خان اڈیالہ جیل میں قید، خاندان نے صورتحال پر ظاہر کی تشویش، جانیں اڈیالہ جیل کی تاریخ اور خطرناک حالات

اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان راولپنڈی کی بدنامِ زمانہ اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اگست 2023 میں کرپشن سے متعلق مقدمات میں سزا سنائے جانے کے بعد سے وہ اسی جیل میں بند ہیں۔ اب ان کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ عمران خان کو نہایت خراب اور غیر انسانی حالات میں رکھا جا رہا ہے اور ان کے خاندان کو ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ عمران خان کی بہنوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔

اڈیالہ جیل کتنی خطرناک؟
اڈیالہ جیل پاکستان کی سب سے سخت اور خطرناک جیلوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں دہشت گردوں، جرائم پیشہ گروہوں کے سرغناؤں، غیر ملکی قیدیوں، سزائے موت کے مجرموں اور اعلیٰ سیاسی شخصیات کو قید رکھا جاتا ہے۔ پاکستانی اخبار ڈان کے مطابق اس کی صورتحال بھارت کی تہاڑ جیل سے مشابہ قرار دی جاتی ہے۔

خونی تاریخ
اڈیالہ جیل کی تاریخ بھی خاصی المناک ہے۔ 4 اپریل 1979 کو پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اسی جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔ بعد ازاں جنرل ضیاء الحق کے دور میں جیل کو جدید بنانے کے لیے کھیل کے میدان اور تعلیمی سہولیات کا اضافہ کیا گیا، مگر حالات کے بگاڑ کے ساتھ یہ اقدامات ناکافی ثابت ہوئے۔

گنجائش سے تین گنا زیادہ قیدی
پنجاب پریزنز ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق اس جیل کی گنجائش صرف 1900 قیدیوں کی ہے، جبکہ اس وقت یہاں تقریباً 6000 سے زائد قیدی بند ہیں۔ شدید بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے قیدی تنگ، اندھیری اور غیر ہوادار کوٹھڑیوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اس صورتحال سے بیماریاں، غذائی قلت اور موت کا خطرہ مسلسل منڈلاتا رہتا ہے۔

خوراک اور پانی کی صورتحال
قانون کے مطابق قیدیوں کو معیاری کھانا، گوشت، چاول اور میٹھا فراہم کیا جانا چاہیے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ قیدیوں کا کہنا ہے کہ کھانے میں استعمال ہونے والے تیل سے ڈیزل جیسی بو آتی ہے۔ پینے کا پانی براہ راست بورویل سے آتا ہے، جس سے ہیضہ، ٹائیفائڈ اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

سکیورٹی کے سخت اقدامات
جیل کے اردگرد پانچ کلومیٹر تک موبائل سروس بند ہے۔ آس پاس کے رہائشی علاقوں کی باقاعدہ سرچ اور نگرانی کی جاتی ہے تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کو روکا جا سکے۔

عالمی توجہ
یہ جیل ماضی میں بھی عالمی میڈیا کی نظروں میں رہی۔ برطانیہ کے شہزادہ چارلس نے جیل کا دورہ کیا تھا، جب ایک برطانوی شہری مرزا طاہر سزائے موت کے فیصلے کا انتظار کر رہے تھے۔ بعد میں ان کی سزا عمر قید میں بدلی گئی اور انہیں برطانیہ منتقل کر دیا گیا۔

عمران خان کی صحت پر افواہیں
حال ہی میں افغان میڈیا نے دعویٰ کیا کہ عمران خان قید کے دوران انتقال کر گئے، مگر حکومت اور جیل انتظامیہ نے اسے جھوٹی خبر قرار دیا اور کہا کہ عمران خان محفوظ اور صحت مند ہیں۔ بعد ازاں ان کی بہن علیمہ خان اور پی ٹی آئی کارکنان نے احتجاج ختم کیا، جب پولیس نے یقین دہانی کرائی کہ ملاقات کا انتظام کیا جائے گا۔ پاکستان میں سیاسی کشیدگی کے تناظر میں عمران خان کی قید کے حالات ایک بڑا قومی سوال بن چکے ہیں، جس پر ملک بھر میں بحث جاری ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

ڈگری سے مارک شیٹ تک، ہرجگہ صرف Bharat، مہاتما جیوتی با پھولے روہیل کھنڈ یونیورسٹی میں لفظ India ختم، دستاویزوں میں نظرآئے بھارت

مہاتما جیوتی با پھولے روہیل کھنڈ یونیورسٹی نے کئی بڑے فیصلے کئے ہیں۔ اب یونیورسٹی…

25 minutes ago

Rahul Gandhi Attacks on Gyanesh Kumar: ’گیانیش کمار رات کو سو نہیں پا رہے ہوں گے‘، مہاریلی میں راہل گاندھی کا چیف الیکشن کمشنر پر حملہ

راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو براہِ راست نشانہ بنایا۔ انہوں نے…

4 hours ago

Amit Shah slams Congress: سکھ مخالف فسادات کی برسی پر ریلی نکالنا متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف: امت شاہ

مرکزی وزیر داخلہ نے کانگریس اور راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی…

4 hours ago