بین الاقوامی

How to deal with the severe food crisis? شدید غذائی بحران سے کیسے نمٹا جائے؟ یواین کے سروے میں کیا ہیں حیران کردینے والے اعداد و شمار

انسانی زندگی میں صحت مند رہنا سب سے اہم ہے اور اس کے لیے وافر اور محفوظ خوراک کا کردار سب سے زیادہ ہے۔ اگر کسی شخص کو مناسب اور محفوظ خوراک نہ ملے تو وہ کئی جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ آج چاہے دنیا ترقی کی بلندیوں پر ہو، مگر آج بھی کروڑوں لوگ ایسے ہیں جو بھوک کا شکار ہیں۔ دنیا میں انسانی حقوق کے کئی قوانین عوام کی بھلائی کے لیے بنائے گئے ہیں تاکہ لوگ اپنی زندگی بہتر انداز میں گزار سکیں۔ زندگی میں روٹی، کپڑا اور مکان بے حد ضروری ہیں، لیکن اگر کسی وجہ سے یہ چیزیں میسر نہ ہوں تو انسان شدید مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔

53 ممالک کے 30 کروڑ لوگ بھوک کے شکار

دنیا کے 53 ممالک میں تقریباً 30 کروڑ لوگ بھوک کا شکار ہیں اور شدید نوعیت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ یہ معلومات اقوام متحدہ کے ایک مطالعے میں سامنے آئیں۔ اقوام متحدہ نے یہ بھی پایا کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بھوک کے اعداد و شمار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور 2023 کے مقابلے میں 2024 میں یہ تعداد 1.37 کروڑ مزید بڑھ گئی۔ اقوام متحدہ کے مطابق ان 53 ممالک کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ 23 فیصد آبادی کو مناسب خوراک دستیاب نہیں، جس کی وجہ سے وہ مختلف بیماریوں اور غذائی قلت میں مبتلا ہیں۔

کون سے ملک میں سب سے زیادہ بھوک ہے؟

اقوام متحدہ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ بھوک “ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا” (شمالی کوریا) میں دیکھی گئی، جہاں ملک کی کل آبادی کا 53 فیصد حصہ بھوک کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق بھوک سے متاثرہ دنیا کے 10 ممالک کی فہرست کچھ یوں ہے: ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا، وسطی افریقی جمہوریہ، ہیٹی، نائجر، کانگو ڈیموکریٹک ریپبلک، مڈغاسکر، چاڈ، یمن، صومالیہ

سروے میں بھوک کے کیا اسباب سامنے آئے؟

قدرتی آفات – 18 ممالک میں قدرتی آفات جیسے شدید قحط اور سیلاب کے باعث ایسے حالات پیدا ہوئے کہ روزانہ کما کر کھانے والوں کو خوراک کے انتظام میں شدید مشکلات پیش آئیں اور وہ مناسب غذا نہ ملنے کی وجہ سے غذائی قلت اور دیگر بیماریوں کا شکار ہو گئے۔

بے دخلی (Displacement) – اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق کئی ممالک میں بے دخلی کی وجہ سے لوگوں کو پناہ گزین بننا پڑا، جس کی وجہ سے ان کے سامنے خوراک اور روزگار کے سنگین مسائل کھڑے ہو گئے اور وہ اپنے خاندان کی کفالت کرنے سے قاصر ہو گئے۔

معاشی مسائل – 15 ممالک میں معاشی جھٹکوں کی وجہ سے 6 کروڑ لوگ بھوک کے شکار ہو گئے۔ انہیں روزگار نہ مل سکا یا وہ بیروزگار ہو گئے۔

تشدد اور تنازعات – کئی ممالک میں تشدد اور جنگ بھی بھوک کی بڑی وجہ بنی۔ ایسے حالات میں غیر یقینی ماحول نے خوراک کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالی یا بہت کم خوراک دستیاب ہو سکی۔

اقوام متحدہ نے اس مسئلے کے حل پر غور شروع کیا

اقوام متحدہ نے اپنی 5 خصوصی ایجنسیوں کے ذریعے 53 ممالک میں سروے کرایا جس کے نتائج نہایت چونکا دینے والے تھے۔ اب اقوام متحدہ نے اس دردناک مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ غور و فکر شروع کر دیا ہے۔ اس حوالے سے مختلف ممالک کے ساتھ مشاورت اور میٹنگز بھی کی جا رہی ہیں، اور سب کو امید ہے کہ آنے والے وقت میں دنیا کے لوگ اس بھاری مسئلے سے نجات حاصل کر سکیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Air India Flight Suspension: سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایئر انڈیا کی سعودی عرب آنے اور جانے والی پروازیں 14 نومبر تک معطل

یہ تازہ ایڈوائزری اس اعلان کے صرف چھ دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں…

3 hours ago

The BJP’s New Balance in UP: یوگی کی زمین، مودی کا آسمان: یوپی میں بی جے پی کا نیا سیاسی توازن

امت شاہ کے لکھنؤ دورے اور ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد 2027 اور…

3 hours ago

CM Yogi’s leadership in UP: کیا امت شاہ نے یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت پر مہر لگا دی؟ 2027 اور 2029 کے سیاسی فارمولے کا پورا حساب

لکھنؤ میں بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد قیاس آرائیاں…

4 hours ago

Supreme Court on UP SIR: اتر پردیش ایس آئی آر معاملے میں سپریم کورٹ سخت، الیکشن کمیشن کو تحقیقات کی ہدایت

سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرانے کے لیے بڑی…

4 hours ago