بین الاقوامی

Hamas agrees to U.S. proposal: حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکی تجویز کو کیا قبول،اسرائیل کے جواب کا ہے انتظار

حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکی تجویز کو قبول کر لیا ہے، جسے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے پیش کیا تھا، ایک فلسطینی عہدیدار نے رائٹرز کو یہ جانکاری دی ہے۔ یہ تجویز 70 دنوں کی جنگ بندی، 10 یرغمالیوں کی رہائی اور روزانہ 1,000 امدادی ٹرکوں کی غزہ میں داخلے کی اجازت پر مشتمل ہے، جس کی ضمانت امریکی صدر دیتے ہیں۔ حماس اور امریکہ کے درمیان اس معاہدے پر اتفاق ہو چکا ہے، جو غزہ میں 15 ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ تاہم، اسرائیل کی جانب سے ابھی تک اس تجویز پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، اور مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اسرائیلی حکام کے جواب پر ہے۔امریکی تجویز کے مطابق جنگ بندی اگر طے پاجاتی ہے تو حماس پانچ یرغمالیوں کو شروعات کے دنوں میں رہا کرے گا اور جب جنگ بندی کو 60 دن مکمل ہوجائیں گے تب مزید 5یرغمالی رہا کئے جائیں گے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسرائیل نے مارچ میں دو ماہ کی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کیں، جس سے 54,000 سے زائد فلسطینی ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ حماس نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ جنوری میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رکھے گا۔ مصر اور قطر کے ثالثین نے اس نئی تجویز کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، جو پہلے مرحلے میں یرغمالیوں کی رہائی اور امداد کی ترسیل پر مرکوز ہے۔ فلسطینی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حماس اس معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف بڑھنے کے لیے پرعزم ہے، جس میں اسرائیلی فوج کی مکمل واپسی اور جنگ کا مستقل خاتمہ شامل ہے۔

اسرائیل نے مارچ سے غزہ میں امداد کی ترسیل پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جس سے وہاں کے 23 لاکھ باشندوں کو خوراک، ادویات اور ایندھن کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں قحط کا خطرہ بڑھ رہا ہے، اور صحت کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں غزہ میں امداد کی ترسیل کے لیے ایک نئے طریقہ کار کا وعدہ کیا تھا، جسے وٹکوف کی تجویز نے عملی شکل دی۔ تاہم، ٹرمپ کے اس متنازعہ منصوبے پر کہ غزہ کی آبادی کو ہٹا کر وہاں ایک “ریویئرا آف دی مڈل ایسٹ” بنایا جائے، فلسطینیوں اور عرب رہنماؤں نے شدید تنقید کی ہے۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی قیمت پر نہیں چھوڑیں گے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، حماس نے اس تجویز پر مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے، لیکن مذاکرات ابھی جاری ہیں، اور کچھ اہم نکات پر اتفاق رائے باقی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کا مطالبہ ایک بڑی رکاوٹ ہے، جسے حماس نے “سرخ لکیر” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ مصری ذرائع نے بتایا کہ یہ تجویز جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی طرف پیش رفت کا راستہ کھول سکتی ہے، جس میں باقی یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ سے اسرائیلی فوج کی مکمل واپسی شامل ہوگی۔ قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے بھی حال ہی میں کہا کہ دوحہ میں ہونے والی بات چیت میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، لیکن حتمی معاہدہ ابھی تک طے نہیں پایا۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Union Home Minister Amit Shah: بنگال جینتی پر امت شاہ نے ایشور چندر ودیا ساگر کو پیش کی خراج تحسین

امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…

1 hour ago

Dr. Manmohan Singh: پی ایم مودی، ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی سمیت کئی لیڈروں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یوم پیدائش پر کیا یاد

کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…

3 hours ago

CEC Gyanesh Kumar: گیانیش کمار کو جانا ہی ہوگا، کانگریس کا مطالبہ، کاکروچ جنتا پارٹی کا آج ختم ہو رہا ہےالٹی میٹم

کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…

4 hours ago