بین الاقوامی

Hajj 2024: جھلسانے والی گرمی میں 900 عازمین حج اللہ کو پیارے ہوگئے، اہل خانہ سوشل میڈیا کے ذریعہ تلاش میں مصروف

پوری دنیا کے مسلمان لاکھوں کی تعداد میں سفرحج پرجاتے ہیں۔ سعودی حکومت کی جانب سے ان کے لئے بہترین انتظامات بھی کئے جاتے ہیں۔ لیکن اس بار جھلسانے والی گرمی میں بڑی تعداد میں عازمین حج کے ہلاک ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ اس وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنے اہل خانہ کی تلاش میں پریشان ہونا پڑ رہا ہے۔ دوستوں اوراہل خانہ کے لئے بدھ کا دن بہت بھاری رہا کیونکہ وہ لاپتہ عازمین کی دن بھر تلاش کرتے رہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس سال ہلاک ہونے والے عازمین حج کی تعداد 900 سے زیادہ ہوگئی ہے۔

مسلمانوں کے سب سے مقدس شہرمکہ میں پیر کے روز درجہ حرارت 51.8 ڈگری سیلسیس (125 فارن ہائٹ) تک پہنچنے کے بعد رشتہ داروں کی طرف سے اسپتالوں کی تلاش کی گئی اور آن لائن خبروں کے ذریعہ جڑے رہے۔ پوری دنیا سے آئے تقریباً 18 لاکھ لوگوں میں جن کئی بوڑے اوربیمار بھی شامل تھے، دن بھر چلنے والی، زیادہ ترباہری عازمین نے حصہ لیا۔ اس بار وہاں پرخطرناک گرمی بھاری پڑی ہے۔

مصر کے لوگ سب سے زیادہ ہوئے ہلاک

ایک عرب سفارت کارنے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ حج پرجانے والے افراد میں سب سے زیادہ مصریوں کی موت ہوئی ہے۔ مصرمیں گرمی کی وجہ سے کم ازکم 600 افراد ہلاک ہوئے، جو ایک دن پہلے 300 سے زیادہ ہے۔ متعدد ممالک کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق، اب تک ہونے والی اموات کی کل تعداد 922 تک پہنچ گئی ہے۔

تیونس کی 70 سالہ مبروکہ بنت سلیم شوشنا ہفتہ کے روزعرفات کی زیارت کے آخری مرحلے کومکمل کرنے کے بعد سے لاپتہ ہیں، ان کے شوہرمحمد نے بدھ کے روزبتایا کہ وہ رجسٹرڈ نہیں تھیں اوران کے پاس سرکاری حج اجازت نامہ نہیں تھا۔ وہ ائیرکنڈیشنڈ سہولیات استعمال نہیں کرسکتیں، جوعازمین کوگرمی سے مہلت دیتی ہیں۔ اس نے بتایا کہ “وہ ایک بوڑھی عورت ہے۔ وہ بہت تھکی ہوئی تھی۔ وہ بھی بہت گرمی محسوس کررہی تھی اوراس کے پاس سونے کی جگہ نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اسے تمام اسپتالوں میں تلاش کیا۔ اب تک مجھے کوئی سراغ نہیں مل سکا۔‘‘

سوشل میڈیا بن رہا ہے سہارا

فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا نیٹ ورک یہاں لاپتہ لوگوں کی تصاویر اور اطلاعات کے تفصیلات سے بھرے ہوئے ہیں۔ اسی طرح مصر سے آئے محمود احمد داؤد کی فیملی اوردوست بھی ان کی تلاش میں مصروف ہیں، جو ہفتہ کے روز سے لاپتہ ہیں۔ سعودی عرب میں رہنے والے ان کے ایک دوست نے کہا، ”مجھے مصر میں ان کی بیٹی کا فون آیا اوراس نے مجھ سے فیس بک پر کوئی بھی پوسٹ ڈالنے کی گزارش کی، جس سے انہیں ٹریک کرنے یا انہیں تلاش کرنے میں مدد مل سکے۔“ انہوں نے کہا کہ ”اچھی بات یہ ہے کہ اب تک ہمیں ان کا نام مہلوکین کی فہرست میں نہیں ملا ہے، جس سے ہمیں امید ہے کہ وہ ابھی بھی زندہ ہیں۔“

Nisar Ahmad

Recent Posts

Ankita Bhandari Case: انکیتا بھنڈاری کو انصاف دلانے کی مانگ تیز، انڈیا گیٹ پر والدین سے ملے راہل اور پرینکا گاندھی

انکیتا بھنڈاری کو انصاف دلانے اور دشینت گوتم کو سکم کا گورنر مقرر کیے جانے…

23 minutes ago

Canadian Foreign Minister Meets PM Modi: وزیر اعظم نریندر مودی اور کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کی ملاقات، دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط بنانے پر بات چیت

تجارت، ٹیکنالوجی، سلامتی، توانائی، تعلیم اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے…

52 minutes ago

Gold-Silver Price: صارفین کے لیے خوشخبری! مقامی صرافہ بازار میں سونا تقریباً 1000 روپے سستا، جانیے آج کی تازہ قیمتیں

سونے کی قیمتوں میں نرمی سے خریداروں کو راحت، مقامی زیورات کی مارکیٹ میں 22…

1 hour ago

PM Modi Meet Indian Asian Games Contingent: وزیر اعظم نریندر مودی 15 اکتوبر کو ایشین گیمز کے ہندوستانی دستے سے کریں گے ملاقات

جاپان میں 85 تمغے جیتنے والے ہندوستانی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کریں گے وزیر اعظم،…

1 hour ago