اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے بدھ کے روز غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ یہ حملے کسی بھی جواب یا دفاع کے اصولی پیمانوں سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔
دو سالہ جنگ کی خونریز قیمت
یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے ایک روزہ حملے کے بعد شروع ہوئی، جس کے جواب میں اسرائیل نے غزہ کو جنگی ہدف بنا لیا۔ اس دو سالہ جنگ میں اب تک 62 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں دو تہائی عورتیں اور بچے شامل ہیں۔ صرف حالیہ ہفتوں میں ہی بھوک کے باعث 313 سے زیادہ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
آزادی صحافت پر حملے ناقابل قبول
وزیر اعظم میلونی نے غزہ میں صحافیوں کی تازہ ہلاکتوں پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ صحافی اپنی جان خطرے میں ڈال کر دنیا تک جنگ کی حقیقت پہنچا رہے تھے۔ ان پر حملے آزادی صحافت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔
جنگ بندی اور انسانی امداد کی اپیل
میلونی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ حماس پر تمام اسرائیلی قیدی رہا کرنے اور اسرائیل پر جنگ بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔ ساتھ ہی غزہ میں خوراک اور امدادی سامان کی بلا رکاوٹ ترسیل کو یقینی بنانے پر زور دیا۔
مغربی کنارے میں بھی خونریزی جاری
اطالوی وزیر اعظم نے مغربی کنارے کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی، جہاں 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 972 فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیلی پالیسیوں سے دو ریاستی حل کا خواب خطرے میں پڑ گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نیوزی لینڈ میں وراٹ کوہلی نے اب تک مجموعی طور پر 11 ون ڈے میچ…
کینیڈا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک کے…
سمندری طوفان موراسو کے پیش نظر چنئی کے تمام اسکولوں میں پیر کے روز تعطیل…
حادثے کی ایک خوفناک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔ کاروں میں بیٹھے لوگوں نے طیارے…
ای ڈی کی یہ کارروائی سندر شام اروڑہ پر لگے 5 کروڑ روپے کی رشوت…
یہ پابندیاں ایسے وقت نافذ کی گئی ہیں، جب اتوار کو دہلی کا ایئر کوالٹی…