مرکزی کابینہ نے بدھ کو وزارت ریلوے کے چار اہم منصوبوں کو منظوری دے دی جن پر مجموعی طور پر تقریباً 12,328 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ ان میں گجرات کے ضلع کَچھ میں ایک نئی ریل لائن اور کرناٹک، تلنگانہ، بہار اور آسام میں تین بڑے ریل روٹس کی توسیع شامل ہے۔
گجرات میں کَچھ ریلوے لائن کا نیا منصوبہ
منظور شدہ منصوبے کے تحت کَچھ میں دیسَلپر – حاجی پیر – لونا اور وایور – لکھپت روٹ پر نئی ریل لائن بچھائی جائے گی، جو موجودہ ریل نیٹ ورک میں 145 روٹ کلومیٹر اور 164 ٹریک کلومیٹر کا اضافہ کرے گی۔ یہ منصوبہ 2,526 کروڑ روپے کی لاگت سے تین سال میں مکمل کیا جائے گا۔ یہ لائن رَن آف کَچھ تک رسائی فراہم کرے گی اور نمک، سیمنٹ، کوئلہ، کلِنکر اور بینٹونائٹ کی ترسیل میں مددگار ہوگی۔ اس کے ذریعے ہڑپہ دور کی آثار قدیمہ کی سائٹ دھولاویرا، کوٹیشور مندر، نارائن سروور اور لکھپت قلعہ کو بھی جوڑا جائے گا۔ مجموعی طور پر 13 نئے ریلوے اسٹیشن تعمیر ہوں گے۔
کثیر پٹریوں والے منصوبے
منظور شدہ ملٹی ٹریکنگ پروجیکٹس میں:
سکندرآباد (سانتھ نگر) – وادی ریلوے روٹ (173 کلومیٹر)، لاگت 5,012 کروڑ روپے، تکمیل کا دورانیہ 5 سال۔
بھاگلپور – جمالپور (تیسری لائن، 53 کلومیٹر)، لاگت 1,156 کروڑ روپے، تکمیل کا دورانیہ 3 سال۔
فورکاٹنگ – نیو ٹنسکیا (ڈبلنگ، 194 کلومیٹر)، لاگت 3,634 کروڑ روپے، تکمیل کا دورانیہ 4 سال۔
یہ راستے کوئلہ، سیمنٹ، کلِنکر، فلائی ایش، اسٹیل، کنٹینر، کھاد، زرعی اجناس اور پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ان منصوبوں سے ریل نیٹ ورک کی گنجائش میں اضافہ ہوگا اور اضافی 68 ملین ٹن سالانہ مال برداری ممکن ہوگی۔
منصوبوں کے فوائد
یہ چار منصوبے گجرات، کرناٹک، تلنگانہ، بہار اور آسام کے 13 اضلاع میں پھیلے ہوئے ہیں اور ریلوے نیٹ ورک میں تقریباً 565 کلومیٹر کا اضافہ کریں گے۔ یہ سب پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت بنائے گئے ہیں، جس کا مقصد ملٹی موڈل کنیکٹیویٹی اور لاجسٹک کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
حکومت کے مطابق لائن کی گنجائش بڑھنے سے ریل آمدورفت میں تیزی، سپلائی چین کا بہتر انتظام اور بھارتی ریلوے کی آپریشنل کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی نے واضح کیا کہ ان منصوبوں سے کوئلہ، کنٹینرز، سیمنٹ، زرعی اجناس، آٹوموبائل، پیٹرولیم مصنوعات، لوہا اور اسٹیل سمیت دیگر اشیا کی نقل و حمل مزید مؤثر اور تیز ہو جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے کہا کہ کوآپریٹو نظام کے ذریعے مویشی…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کے تحت جموں و کشمیر سے…
اتر پردیش میں پی ایم سوریہ گھر یوجنا کے تحت 8.76 لاکھ سے زائد روف…
ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا بڑا احتجاج، 300 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اعلان کا سابق وزیر اعلیٰ اوما بھارتی نے کیا…
راہل گاندھی کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے رجیجو نے کہا کہ انہیں وزیر اعظم…