غزہ کی صورتحال انتہائی ابتر ہے اور بنجامن نیتن یاہو نے قبضہ کرنے کا پلان بنایا ہے۔
فرانس اور چین نے غزہ پٹی میں نئی اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ادھر حماس کا کہنا کہ جب تک اسرائیل ’بھوک کو ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کرتا رہے گا، تب تک جنگ بندی کی کوششوں کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے منگل کے روز کہا کہ پیرس حکومت غزہ پٹی میں اسرائیل کی نئی فوجی کارروائیوں کی ”انتہائی سختی سے‘‘ مذمت کرتی ہے۔
فرانسیسی وزیر کا یہ بیان اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کی طرف سے ایک متنازعہ منصوبے کی منظوری کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ اس منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایک اسرائیلی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد ”غزہ کی پٹی پر مکمل قبضہ اور ان علاقوں پر کنٹرول‘‘ حاصل کرنا ہے۔
ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ غزہ پٹی میں اپنی کارروائیوں کو وسعت دے گی جبکہ ان نئی کارروائیوں کے تحت ”زیادہ تر‘‘ مقامی فلسطینی شہریوں کو وہاں سے بے دخل کر دیا جائے گا۔
فرانسیسی وزیر خارجہ بارو نے ایک ریڈیو انٹرویو میں اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ”یہ (منصوبہ) ناقابل قبول ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکومت ”انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔‘‘
چینی حکومت نے کیا کہا؟
چین کی حکومت کی طرف سے بھی منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ وہ غزہ پٹی میں اسرائیل کی نئی فوجی کارروائیوں کی مخالفت کرتی ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے کہا، ”چین کو موجودہ صورتحال پر شدید تشویش ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ”ہم غزہ میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائیوں کی مخالفت کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ تمام فریق جنگ بندی معاہدے پر مؤثر اور مستقل طور پر عمل درآمد جاری رکھیں گے۔‘‘
جنگ بندی کی کوششوں میں مزید لچسپی نہیں: حماس
حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے منگل کے روز کہا کہ یہ فلسطینی تحریک اب اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات میں مزید کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ حماس کے سیاسی ونگ کے رکن اور سابق وزیر صحت باسم نعیم نے ساتھ ہی عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کے خلاف اسرائیل کی ”بھوک کی جنگ‘‘ کو روکے۔
باسم نعیم نے کہا، ”جب تک غزہ پٹی میں بھوک اور نسل کشی کی جنگ جاری ہے، مذاکرات کرنے یا کسی نئی جنگ بندی کی تجویز پر غور کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ غزہ میں ”بھوک، پیاس اور قتل و غارت‘‘ کے جرائم کا مرتکب نہ ہو۔
امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی جنگ کے نتیجے میں غزہ پٹی کی تقریبا ساری آبادی کم ازکم ایک بار تو نقل مکانی پر مجبور ہو چکی ہے لیکن اس وقت وہ بدترین انسانی بحران کا سامنا بھی کر رہی ہے۔
غزہ پٹی کی صورتحال پر اقوام متحدہ کو تشویش
اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے پیر کے روز کہا تھا کہ سکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس اسرائیل کے نئے منصوبے کی وجہ سے”تشویش میں مبتلا‘‘ ہیں۔ انہوں نے کہا، ”یہ منصوبہ لازمی طور پر مزید شہریوں کی ہلاکت اور غزہ پٹی کی مزید تباہی کا باعث بنے گا۔‘‘
اقوام متحدہ اور کئی امدادی ادارے مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ غزہ پٹی میں قحط کا خطرہ پھر سے منڈلا رہا ہے۔ غزہ پٹی دو مارچ سے مکمل اسرائیلی ناکہ بندی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے غزہ کی فلسطینی آبادی تک کسی بھی قسم کا کوئی امدادی سامان نہیں پہنچ پا رہا۔ یوں وہاں فلسطینی شہریوں کی مشکلات دوچند ہوتی جا رہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…