سری لنکا کے سابق صدر رنیل وکرم سنگھے کو سرکاری فنڈز کے مبینہ غلط استعمال کے مقدمے میں منگل کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے لندن کے ایک نجی دورے کے لیے، جس میں 10 افراد شامل تھے، حکومت کے 1 کروڑ 66 لاکھ سری لنکن روپے (LKR) خرچ کیے۔ اس دورے کے دوران وہ ایک یونیورسٹی کے گریجویشن تقریب میں شریک ہوئے، جو تفتیش کاروں کے مطابق کوئی سرکاری مصروفیت نہیں تھی بلکہ نجی نوعیت کی تھی۔ انہیں گزشتہ جمعہ کو گرفتار کیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر جیل اسپتال میں رکھا گیا، تاہم صحت کی خرابی کے باعث بعد میں کولمبو نیشنل اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
عدالت کی کارروائی
کولمبو فورٹ مجسٹریٹ نیلوپولی لنکا پورا نے رنیل وکرم سنگھے کو تین ضامنوں کے ذریعے، ہر ایک پانچ ملین روپے کے ضمانتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ مقدمے کی اگلی سماعت 29 اکتوبر کو ہوگی۔
صحت کی صورتحال
وکرم سنگھے کو گزشتہ روز ڈی ہائیڈریشن اور دل کی دھڑکن تیز ہونے کی شکایت کے باعث آئی سی یو منتقل کیا گیا۔ طبی ٹیسٹ میں گردے کے مسائل اور سردرد کی علامات بھی ظاہر ہوئیں۔ ڈاکٹروں نے انہیں کم از کم تین دن آرام اور دوا لینے کا مشورہ دیا ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق ان کی موجودہ حالت کے باعث وہ منگل کو عدالت میں پیش نہیں ہوسکے۔
رنیل وکرم سنگھے کا سیاسی سفر
رنیل وکرم سنگھے چھ مرتبہ سری لنکا کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ جولائی 2022 میں گوٹابایا راجاپکشا کے عہدے سے ہٹنے کے بعد انہوں نے عبوری صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ ستمبر 2024 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں وہ انورا کمارا دسانائیکا سے شکست کھا گئے، جو نیشنل پیپلز پاور پارٹی کے رہنما ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 16 اکتوبر کو دہلی کے کناٹ پلیس…
یوپی نیوز: غازی پور کے رکن پارلیمنٹ افضل انصاری کے تین اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے…
اتر پردیش میں تین سطحی پنچایت انتخابات کو لے کر الہ آباد ہائی کورٹ نے…
اے سی پی وویک بھگت کی شکایت پر کارروائی، ذات سے متعلق مبینہ توہین آمیز…
ویسٹ انڈیز کے خلاف چوتھے ٹی 20 میچ میں موقع نہ ملنے کے درمیان 15…
ریپر اور گلوکار یو یو ہنی سنگھ کی مشکلات ایک بار پھر بڑھتی نظر آ…