نیپال میں بھوٹے کوشی ندی میں 26 اگست کو آنے والے اچانک سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ اب سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ علاقے میں ایک بار پھر شدید سیلاب آ سکتا ہے۔ انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ (ICIMOD) کے مطابق نیپال اور چین کی سرحد کے قریب بالائی علاقے میں پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ اب بھی موجود ہونے کا خدشہ ہے، جس کی وجہ سے دوسری خطرناک سیلابی لہر پیدا ہو سکتی ہے۔ کاٹھمنڈو میں قائم آئی سی آئی ایم او ڈی ہندوکش ہمالیہ خطے کے آٹھ ممالک، بھارت، نیپال، بھوٹان، چین، پاکستان، بنگلہ دیش، میانمار اور افغانستان کے لیے کام کرتا ہے۔ ادارے کے سائنسدان اور حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ 26 اگست کو اچانک آنے والے سیلاب کی اصل وجہ کیا تھی اور کیا مستقبل میں مزید خطرہ موجود ہے۔
بھوٹے کوشی اور تریشولی ندیوں کے کنارے خطرہ
آئی سی آئی ایم او ڈی نے کہا ہے کہ بھوٹے کوشی اور تریشولی ندی کے نظام کے کنارے رہنے والی آبادیوں کے لیے خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ ادارے کے ماہرین نے خاص طور پر ان علاقوں میں مسلسل نگرانی اور ضرورت پڑنے پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ آئی سی آئی ایم او ڈی میں کلائمیٹ اور ماحولیاتی خطرات کے سربراہ کیانگ گونگ ژانگ کے مطابق، جس علاقے میں گزشتہ سال روسوا میں سیلاب نے تباہی مچائی تھی، وہ ایک بار پھر خطرے میں ہے۔ ابتدائی شبہ ہے کہ لیندھے کھولا میں برفانی تودہ گرنے کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی، تاہم حتمی وجہ کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
دوسری سیلابی لہر کیوں آ سکتی ہے؟
سائنسدانوں کے مطابق پہاڑوں کے بلند علاقوں میں برف اور چٹانوں کا بڑا تودہ گرنے سے لیندھے کھولا میں بھاری مقدار میں ملبہ جمع ہو سکتا ہے۔ اس ملبے نے اگر دریا کے کسی تنگ حصے میں پانی کا راستہ روک دیا ہو تو ایک عارضی قدرتی بند بن سکتا ہے۔ اس کے پیچھے پانی جمع ہونے کے بعد اگر رکاوٹ اچانک ٹوٹتی ہے تو پانی کی انتہائی طاقتور لہر نیچے کی جانب تباہی مچا سکتی ہے۔ ماہرین نے بتایا کہ گالچی میں تریشولی ندی کی سطح صرف 30 منٹ میں تقریباً نو میٹر بڑھ گئی، جبکہ مالیکھو میں بھی اسی مدت کے دوران پانی کی سطح سات میٹر تک بلند ہوئی۔ پانی کی اتنی تیز رفتار اضافے سے اندازہ ہوتا ہے کہ بالائی علاقے سے اچانک بڑی مقدار میں پانی اور ملبہ نیچے آیا۔
سائنسدان کئی امکانات کی تحقیقات میں مصروف
ماہرین اس وقت سیلاب کے مختلف ممکنہ اسباب کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایک امکان برفانی تودے کا ہے، جبکہ دوسرا خدشہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث عارضی باندھ بننے کا ہے۔ آئی سی آئی ایم او ڈی کے ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن ماہر شاشوت سانیال نے کہا کہ لینڈے کھولا میں 14 ماہ کے اندر دو مرتبہ سیلاب آیا ہے۔ ان کے مطابق اس بار ممکنہ طور پر برفانی تودے نے دریا کا بہاؤ روکا اور اس کے بعد پانی اچانک تیزی سے نیچے آیا، تاہم اس کی حتمی تصدیق ابھی باقی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…
سابق وزیر رام آسرے کشواہا نے بی جے پی چھوڑ کر سماج وادی پارٹی کی…
76ویں سالگرہ پر مرکزی وزرا اور این ڈی اے رہنماؤں نے وزیر اعظم کی عوامی…