مصرمیں آج غزہ امن سربراہی اجلاس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ، مصرکے صدرکے ساتھ مشترکہ صدارت کریں گے۔ 20 ممالک اس سمٹ میں شامل ہوں گے۔ جہاں ایک طرف دنیا کے کئی ملک اس سمٹ میں شرکت کررہے ہیں۔ وہیں، حماس اوراسرائیل نے ہی اس سمٹ میں شرکت کرنے سے انکارکردیا ہے۔ اسرائیل نے تصدیق کی ہے کہ وہ سمٹ کومصرمیں ہونے والے امریکی ثالثی والے غزہ جنگ بندی معاہدے پرباضابطہ دستخطی تقریب میں حصہ نہیں لے گا۔ اے ایف پی نے اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی ترجمان کے حوالے سے یہ جانکاری دی۔
حماس-اسرائیل نہیں ہوں گے شامل
اس سے پہلے حماس نے بھی اعلان کیا تھا کہ وہ اس سمٹ میں شامل نہیں ہوگا۔ حماس کے سمٹ میں حصہ لینے سے انکارکرنے کے بعد اسرائیل نے بھی تقریب میں شامل نہ ہونے کا اعلان کیا۔ حماس کے سیاسی بیارو کے رکن حسام بدران نے اے ایف پی کودیئے انٹرویو میں کہا کہ باضابطہ دستخط کے عمل میں ہم شامل نہیں ہوں گے۔ حماس نے جنگ بندی مذاکرات کے دوران خاص طورپرقطراورمصرکے ثالثوں کے ذریعہ کام کیا۔ ساتھ ہی حماس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ بندی منصوبے کے کچھ حصوں کوعجیب وغریب بتایا ہے۔
مصر میں ہوں گے دستخط
غزہ میں جنگ بندی کے لئے تیار کئے گئے معاہدے پرپیرکومصرکے شرم الشیخ میں منعقدہ ایک سربراہی اجلاس میں باضابطہ طورپر دستخط کئے جائیں گے۔ ایک سفارتی ذرائع کے حوالے سے اے ایف پی نے خبر دی ہے کہ غزہ جنگ بندی میں ثالثی کرنے والے ممالک پیر کومصرکے شہرشرم الشیخ میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں معاہدے کی ضمانت دینے والی باضابطہ دستاویزپردستخط کریں گے۔ حالانکہ اس میں ثالثی کرنے والے سبھی ممالک شامل ہوں گے، لیکن اسرائیل اورحماس نہیں شامل ہوں گے۔ دستخط کرنے والے ممالک میں امریکہ، مصر، قطراورممکنہ طورپرترکی شامل ہوں گے۔ اتوارکواسرائیل نے حماس پراپنی جیت کا اعلان کیا۔
کون کون سے ممالک ہوں گے شامل؟
اس سمٹ میں 20 ممالک شامل ہوں گے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اینٹونیوگوٹیرس، برطانیہ کے وزیراعظم کیراسٹارمر، اٹلی کی وزیر اعظم جیورجیا میلونی، اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز، فرانس کے صدرایمینوئل میکرون، ترکی صدررجب طیب اردغان اوراردن کے بادشاہ عبداللہ دوئم کی موجودگی کی تصدیق ہوچکی ہے۔
ایران بھی نہیں ہوگا شامل
ایرانی میڈیا کے مطابق، مصرنے ایران کو بھی اس سربراہی اجلاس میں مدعو کیا تھا، لیکن پیرکوایران نے تصدیق کی کہ نہ توصدرمسعود پیزشکیان اورنہ ہی وزیرخارجہ عباس اراغچی شامل ہوں گے۔ پیرکے روزعباس اراغچی نے ایکس پرلکھا، نہ تو صدرمسعود پیزشکیان اورنہ ہی میں ان لیڈران سے ملاقات کرسکتے ہیں، جنہوں نے ایرانی عوام پرحملہ کیا ہے اورجو ہمیں دھمکی اورپابندیوں کے ذریعہ نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ بیان امریکہ کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس نے جون میں 12 دنوں تک چلی جنگ کے دوران ایران کے نیوکلیئرٹھکانوں پراسرائیل کے ساتھ مل کرحملہ کیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…