علاقائی

عالمی سطح پر بھارت کے تعلیمی اداروں کی چمک ، LinkedIn کی MBA رینکنگ میں IIM کولکتہ اور حیدرآباد یونیورسٹی بھی شامل

بھارت کے دو ممتاز تعلیمی ادارے آئی آئی ایم کولکتہ اور یونیورسٹی آف حیدرآباد حالیہ دنوں میں بین الاقوامی سطح پر نمایاں ہوئے ہیں۔ LinkedIn کی جانب سے جاری کردہ 2025 کی ٹاپ MBA پروگرامز کی عالمی درجہ بندی میں اگرچہ امریکی ادارے غالب رہے، لیکن بھارت کے یہ دونوں ادارے اپنی حکمت عملی، قیادت اور تعلیمی پالیسیوں کے سبب عالمی توجہ کا مرکز بنے ہیں۔

نئی راہوں پر آئی آئی ایم کولکتہ

آئی آئی ایم کولکتہ کے نئے ڈائریکٹر پروفیسر آلوک کمار رائےجو اس سے قبل لکھنؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں۔انہوں نے منصب سنبھالتے ہی ادارے میں کئی مثبت تبدیلیوں کا آغاز کیا۔ ان کی قیادت میں یہ معتبر ادارہ اب عالمی نیٹ ورکنگ، لیڈرشپ ڈویلپمنٹ اور انڈسٹری کنیکٹ پر خاص زور دے رہا ہے۔ پروفیسر رائے کا ماننا ہے کہ بھارتی تعلیمی اداروں کو صرف تعلیم تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ انہیں عالمی سطح پر مقابلے کے لیے تیار کیا جانا چاہیے۔

حیدرآباد یونیورسٹی بھی عالمی فہرست میں

ادھر یونیورسٹی آف حیدرآباد بھی LinkedIn کی جاری کردہ ٹاپ MBA پروگرامز کی فہرست میں شامل کی گئی ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر جشنو دیو ورما جو گورنر بھی ہیں ،ان کی سربراہی میں ادارہ مسلسل ترقی کی جانب گامزن ہے۔ حالیہ 25ویں کانووکیشن کے موقع پر، جہاں 1,717 طلبہ کو ڈگریاں اور 242 کو پی ایچ ڈی کی اسناد دی گئیں، جشنو دیو ورما نے طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا:”ذہنی ارتقاء ہی انسانی وجود کا حتمی مقصد ہونا چاہیے۔” یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ ادارہ تحقیق اور اعلیٰ تعلیم میں مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔

دیگر بھارتی ادارے بھی نمایاں

LinkedIn کی اس درجہ بندی میں احمد آباد یونیورسٹی اور بنگلور یونیورسٹی کے نام بھی شامل ہیں۔ احمد آباد یونیورسٹی نے حالیہ مرکزی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کانفرنس (KEVADIA, GUJARAT) میں حصہ لیا، جہاں قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ادارے کے وائس چانسلر نے انوویشن اور انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے پر زور دیا۔  بنگلور یونیورسٹی کے وائس چانسلر ایس ایم جے کر کی قیادت میں منعقد ہونے والی 60ویں کانووکیشن میں یو ٹی خادر سمیت تین شخصیات کو اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا گیا، جو اعلیٰ تعلیم میں تنوع کی علامت ہے۔

ان چاروں یونیورسٹیوں کی کوششیں اس حقیقت کی غمازی کرتی ہیں کہ بھارتی اعلیٰ تعلیمی ادارے اب صرف قومی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔ چاہے وہ LinkedIn کی MBA رینکنگ میں جگہ حاصل کرنا ہو، یا طلبہ کو عالمی قیادت کے لیے تیار کرنا ، آئی آئی ایم کولکتہ اور یونیورسٹی آف حیدرآباد بھارت کی تعلیم کو ایک نئی سمت دے رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

2 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

3 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

3 hours ago