ایران کے خلاف امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی سخت اقتصادی پابندیوں کی چین نے مخالفت کی ہے۔ چین نے واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیرعائد کی جانے والی یکطرفہ پابندیاں اورمعاشی دباؤکسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ چین کے مطابق، موجودہ تنازع کوحل کرنے کا واحد راستہ بات چیت اورسفارت کاری ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ ایران پرعائد یکطرفہ پابندیاں اورمعاشی جنگ کسی مسئلے کوحل نہیں کرسکتیں۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات سے عالمی سطح پرکشیدگی مزید بڑھتی ہے، جبکہ عالمی معیشت اورمالیاتی نظام بھی متاثرہوتا ہے، جس کا نقصان تمام ممالک کواٹھانا پڑتا ہے۔
ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھے گا چین
ترجمان لن جیان نے کہا کہ ایران کے ساتھ چین کی تجارت اورتعاون بین الاقوامی قانون کے دائرے میں مکمل طورپرجائزہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اس صورت حال پرمسلسل نظررکھے ہوئے ہے اوراپنے قومی مفادات اورقانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہرضروری قدم اٹھائے گا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اس تنازع کوحل کرنے کے لیے اب صرف بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ باقی رہ گیا ہے۔ چین نے تمام فریقوں سے کشیدگی کم کرنے اورمذاکرات کے ذریعہ مسئلے کا حل تلاش کرنے کی اپیل کی ہے۔
امریکہ نے ایران پرعائد کیں سخت پابندیاں
امریکہ نے اگست 2026 میں ایران کے خلاف اب تک کی سخت ترین اقتصادی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس مہم کو’’اکنامک ڈی ڈے‘‘ کا نام دیا ہے۔ امریکی وزیرخزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق ان پابندیوں کا بنیادی مقصد بیرون ملک ایران کے تمام اقتصادی اورآمدنی کے ذرائع کومکمل طورپربند کرنا ہے۔ امریکہ نے ان غیرملکی بینکوں اورکمپنیوں پربھی دباؤ بڑھا دیا ہے، جوایران کے ساتھ تجارت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسی سلسلے میں امریکہ نے بھارت میں قائم چارکمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔
ٹرمپ دنیا بھرکے لیڈران سے کررہے ہیں رابطہ
امریکی وزیرخزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف ’’معاشی جنگ‘‘ کے سلسلے میں صدرڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھرکے رہنماؤں سے فون پربات کررہے ہیں اوران سے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات اوررابطے ختم کرنے کی اپیل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کا مقصد ایران کی حکومت کوسہارا دینے والے تمام اقتصادی ذرائع کوختم کرنا ہے، تاکہ تہران کومکمل طورپر الگ تھلگ کیا جا سکے۔
ایران نے امریکہ سے رویہ بدلنے کو کہا
دوسری جانب ایران کے صدرمسعود پزشکیان نے امریکہ سے ایران کے تئیں اپنی زبان اورپالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے دباؤ ڈالنے اوردھمکی دینے کی پالیسی معاملات کومزید پیچیدہ کرے گی۔ ایرانی صدرنے امید ظاہرکی کہ امریکہ اورایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کی یادداشت (ایم او یو) میں مقررکیے گئے اہداف دونوں ممالک کی مشترکہ خواہش اورتعاون کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ایران کے اقتصادی امورسے متعلق وزرا نے بھی کہا ہے کہ ملک امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیارہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
وورا کا الزام ہے کہ 2011 میں ان کی معلومات کے بغیر مبینہ طور پر…
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…