چین میں ایک بار پھر کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، تاہم صحت حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال 2020 جیسی سنگین نہیں ہے۔ جون کے مہینے میں ملک بھر میں تقریباً 79 ہزار نئے مریض سامنے آئے، جن میں سے صرف 130 کی حالت تشویشناک رہی جبکہ ایک شخص کی موت ہوئی۔ حکام کے مطابق اس بار زیادہ تر متاثرہ افراد میں بیماری کی علامات ہلکی نوعیت کی ہیں۔
کون سا ویریئنٹ تیزی سے پھیل رہا ہے؟
چین کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) کے مطابق اس وقت اومیکرون کا ذیلی ویریئنٹ NB.1.8.1 سب سے زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ 13 سے 19 جولائی کے اعداد و شمار کے مطابق کورونا ٹیسٹ کی پازیٹوٹی شرح 16.3 فیصد تک پہنچ گئی، جو اس سے پہلے تقریباً 12 فیصد تھی۔ اس کے برعکس فلو کی پازیٹوٹی شرح کم ہو کر 12.6 فیصد رہ گئی، یعنی رواں سال پہلی بار کورونا کے کیسز فلو سے زیادہ ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
علامات اور صحت یابی
صحت حکام کے مطابق زیادہ تر مریضوں میں بخار، گلے کی خراش، نزلہ اور زکام جیسی ہلکی علامات دیکھی جا رہی ہیں۔ بیشتر مریض 5 سے 7 دن کے اندر صحت یاب ہو رہے ہیں، جبکہ اسپتال میں داخل ہونے والوں کی تعداد نہایت کم ہے۔
وائرس کے پھیلنے کی وجوہات
ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں لوگ زیادہ وقت ایئر کنڈیشنڈ بند کمروں میں گزارتے ہیں اور تعطیلات کے دوران سفر میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے، جس سے وائرس کو پھیلنے کا زیادہ موقع ملتا ہے۔ تاہم ڈاکٹروں کے مطابق نیا ویریئنٹ پہلے کے مقابلے میں زیادہ خطرناک یا مہلک ثابت نہیں ہوا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں صورتحال
چینی ڈاکٹروں کے مطابق مئی 2025 میں کورونا کی پازیٹوٹی شرح 20 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی، جبکہ اس بار صورتحال اس سطح سے کافی بہتر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ویکسین اور سابقہ انفیکشن سے حاصل ہونے والی قوتِ مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے، اس لیے وقتاً فوقتاً کیسز میں اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے اور آئندہ مہینوں میں چھوٹے پیمانے پر مقامی وبائی پھیلاؤ بھی ممکن ہے۔
بھارت کے لیے کیا صورتحال ہے؟
بھارت میں فی الحال تشویش کی کوئی غیر معمولی وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔ NB.1.8.1 ویریئنٹ سے متعلق کوئی غیر معمولی صورتحال رپورٹ نہیں ہوئی، تاہم ماہرین صحت نے بزرگ افراد، حاملہ خواتین، کم عمر بچوں اور سنگین بیماریوں میں مبتلا افراد کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔
گھبرانے کے بجائے احتیاط ضروری
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ چین میں کورونا کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے، لیکن حالات ووہان میں وبا کے ابتدائی دنوں جیسے نہیں ہیں۔ بھارت سمیت دیگر ممالک کے لیے سب سے اہم بات یہی ہے کہ خوف و ہراس پھیلانے کے بجائے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، صحت سے متعلق ہدایات پر عمل کیا جائے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
میمورنڈم میں مسجد اور قبرستان کی موجودہ صورتِ حال پرگہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پنجاب میں منشیات کے بڑھتے کاروبار کو لے کر…
سی جے پی لیڈر سورو داس اور آشوتوش رانکا نے اپنی عدالتی حراست کے خلاف…
عرضداشت میں اس بات پرخصوصی زوردیا گیا ہے کہ مسجد اوراس کے آس پاس آباد…
لکھنؤ کے شیوا شرما کی موت کے معاملے میں مفرور شردھا دوبے کو اتر پردیش…
حکومت کا خیال ہے کہ بھارت-نیوزی لینڈ ایف ٹی اے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات…