روم: اسپین کے شہر سیوٹا میں غیر قانونی ہجرت کے بحران نے اٹلی اور اسپین کے درمیان سیاسی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ اسپین کے زیرِ انتظام علاقے میں ہزاروں مہاجرین کے پہنچنے کی اطلاعات کے بعد اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اسپین سے سمندری اور فضائی راستوں سے آنے والے مسافروں کی سرحدی جانچ مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم میلونی نے شینگن نظام کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر صورتحال قابو میں نہ آئی تو اٹلی شینگن قواعد کے تحت دستیاب استثنائی اختیارات استعمال کر سکتا ہے۔
سیوٹا یورپ میں داخلے کا اہم راستہ
سیوٹا افریقی ملک مراکش کی سرحد پر واقع اسپین کا ایک خودمختار علاقہ ہے، جسے یورپ میں داخلے کے اہم راستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اٹلی کا موقف ہے کہ اگر مہاجرین اسپین تک پہنچ جاتے ہیں تو شینگن معاہدے کے تحت آزادانہ نقل و حرکت کی سہولت کے باعث وہ بعد میں اٹلی، فرانس، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ یورو نیوز کے مطابق سیوٹا بحران کے بعد اٹلی نے اسپین سے آنے والے مسافروں کی دوبارہ جانچ شروع کر دی ہے۔ اٹلی کی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر غیر یورپی یونین (Non-EU) شہریوں کی شناختی دستاویزات کی جانچ کی جا رہی ہے۔
ایک ماہ کے لیے خصوصی سرحدی نگرانی نافذ
اٹلی کے وزیر داخلہ ماتیو پیانتیڈوسی نے کہا کہ اسپین کے ساتھ سمندری اور فضائی سرحدوں پر ایک ماہ کے لیے خصوصی سرحدی نگرانی نافذ کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام احتیاطی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد شینگن علاقے میں غیر یورپی شہریوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر کسی دوسرے ملک کو شینگن کے آزادانہ نقل و حرکت کے نظام سے خارج نہیں کر سکتا، اسی لیے اٹلی نے شینگن قواعد میں موجود استثنائی دفعات کے تحت عارضی سرحدی جانچ دوبارہ نافذ کی ہے۔
اسپین نے یورپی یونین سے مداخلت کی اپیل کی
ہفتہ کی صبح سے روم فیومیچینو، میلان مالپینسا اور میلان لینیٹے ہوائی اڈوں پر پولیس نے اتفاقی بنیادوں پر جانچ شروع کر دی ہے۔ یورپی یونین کے شہریوں کے لیے صرف شناختی دستاویز دکھانا کافی ہے، جبکہ غیر یورپی شہریوں کو شناختی دستاویز کے ساتھ مؤثر رہائشی اجازت نامہ یا ویزا بھی پیش کرنا ہوگا۔ البتہ اٹلی سے اسپین جانے والے شہریوں کے لیے سفری ضوابط میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ روم کے اس فیصلے پر اسپین نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لین کو خط لکھ کر یورپی یونین سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے۔ اس خط میں اسپین کی حمایت اور مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے یورپی ممالک کو مشترکہ حکمت عملی پر واپس لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اردو زبان کی ترویج اور اس کے فروغ کے لیے خدمات اور خصوصی تعاون پر…
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ…
22 ستمبر سے نئی دہلی میں اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس کے سربراہان کی تیسری قومی…
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے اسکولوں میں برقع اور نقاب پر پابندی، غیر…
گمبھیر نے ملاقات کو انتہائی خوشگوار قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر…
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس کی کارروائی، مرکزی ملزم سمیت 5…