عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی رقابت، معاشی غیر یقینی صورتحال اور بدلتے بین الاقوامی اتحادوں کے درمیان کینیڈا کی نئی حکومت نے اپنی خارجہ پالیسی کو مزید متوازن اور مؤثر بنانے کی سمت عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اسی حکمت عملی کے تحت کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی 26 فروری سے 7 مارچ 2026 تک ایشیا و بحرالکاہل خطے کے اہم ممالک کے سرکاری دورے پر روانہ ہو رہے ہیں، جس کا پہلا اور سب سے اہم مرحلہ بھارت ہوگا۔ وزیر اعظم کارنی کے دفتر کی جانب سے جاری سرکاری بیان کے مطابق وہ اپنے دورے کے آغاز میں پہلے ممبئی پہنچیں گے، جس کے بعد وہ نئی دہلی کا دورہ کریں گے۔ نئی دہلی میں ان کی ملاقات بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے طے ہے، جہاں دونوں لیڈر دوطرفہ تعلقات کو نئی سمت دینے اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔
اطلاعات کے مطابق ملاقات کے دوران تجارت، توانائی، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ہنرمند افرادی قوت کی نقل و حرکت، ثقافتی روابط اور دفاعی شعبے میں ممکنہ شراکت داری کے نئے امکانات پر گفتگو کی جائے گی۔ دونوں ممالک باہمی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور صنعتی تعاون بڑھانے کے طریقوں پر بھی غور کریں گے۔ کینیڈا قدرتی وسائل، صاف توانائی اور اہم معدنی ذخائر سے مالا مال ملک ہے، جبکہ بھارت تیزی سے ابھرتی ہوئی عالمی معیشت کے طور پر توانائی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مینوفیکچرنگ کے میدان میں نمایاں ترقی کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اوٹاوا حکومت بھارت کے ساتھ طویل مدتی اقتصادی شراکت داری کو اپنی خارجہ و تجارتی پالیسی کا مرکزی حصہ بنا رہی ہے۔
اپنے دورے کے دوران وزیر اعظم کارنی بھارتی اور کینیڈین کاروباری شخصیات و سرمایہ کاروں سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مضبوط بنایا جا سکے اور دوطرفہ سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن ہو سکے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو نئی رفتار فراہم کر سکتا ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سپلائی چین، توانائی تحفظ اور اسٹریٹجک ٹیکنالوجیز کے حوالے سے عالمی طاقتوں کے درمیان نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔ کینیڈا اب روایتی تجارتی شراکت داروں پر انحصار کم کرتے ہوئے انڈو پیسفک خطے میں اپنے تعلقات کو متنوع بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس میں بھارت کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ تجزیہ کار اس دورے کو کینیڈا اور بھارت کے تعلقات میں ممکنہ ”نئے آغاز“ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ملاقات مستقبل میں اقتصادی، تکنیکی اور دفاعی تعاون کے نئے دروازے کھولنے کے ساتھ ساتھ خطے میں جمہوری شراکت داری اور اسٹریٹجک استحکام کو بھی مزید مضبوط بنائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مولانا ارشد مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایسا کوئی قانون قبول نہیں…
وائرل ویڈیو نے ایک بار پھر پولیس محکمہ میں نظم و ضبط اور وردی کے…
اس شلوک کا مفہوم ہے کہ جس شخص کا ذہن تذبذب سے پاک، جو نظم…
وورا کا الزام ہے کہ 2011 میں ان کی معلومات کے بغیر مبینہ طور پر…
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…