بین الاقوامی

Indian-origin woman racially abused in Britain: برطانیہ میں ہند نژاد خاتون کے ساتھ نسلی بدسلوکی، ٹرین کے اندر نشے میں دھت شخص نے کہا- ہم نے ہندوستان کو فتح کیا

لندن: برطانیہ کی ایک ٹرین میں مبینہ نسلی تبصرے کا ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ ایک 26 سالہ ہند نژاد خاتون کے ساتھ نشے میں دھت شخص نے ظالمانہ سلوک کیا۔ اس واقعے نے عوامی مقامات پر ہیٹ اسپیچ کو لے کر خدشات کو جنم دیا ہے۔

بتا دیں کہ یہ واقعہ اتوار کے روز اس وقت پیش آیا جب خاتون لندن سے مانچسٹر جا رہی تھی۔ ایک ساتھی مسافر کے ساتھ  بات چیت دوران، انہوں نے تارکین وطن کی مدد کرنے والی تنظیم کے ساتھ اپنے کام کا ذکر کیا۔

ایسا لگتا ہے کہ دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو سے ایک دوسرا مسافر برہم ہو گیا۔ یہ شخص کین سے شراب پی رہا تھا اور نسلی تبصرہ کرنے لگا۔

واقعے کی ایک ویڈیو میں، (جسے بعد میں ہٹا دیا گیا تھا)، اس شخص کو ہند نژاد خاتون اور دیگر مسافروں کے خلاف نسلی تبصرے کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ وہ انگلینڈ کے نوآبادیاتی ماضی پر شیخی بگھار رہا تھا۔ اس نے کہا، ’’آپ انگلینڈ میں ہیں اور آپ کچھ دعویٰ کر رہے ہیں، اگر آپ کچھ دعویٰ نہیں کر رہے ہوتے تو آپ انگلینڈ میں نہیں ہوتے۔ انگریزوں نے دنیا کو فتح کیا اور است آپ کو واپس کر دیا، ہم نے ہندوستان کو فتح کیا، ہم اسے نہیں چاہتے تھے، ہم نے آپ کو واپس دے دیا۔‘‘

اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے خاتون نے کہا، ’’اس شخص نے ’امیگرنٹ‘ لفظ سنا اور اس کا فوری ردعمل غصہ اور جارحانہ تھا۔ یہ بہت پریشان کن تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ اس نے جو کہا وہ غلط تھا۔ یہ ایک پاگلپن بھری صورتحال تھی۔ میں نے اپنی حفاظت کے لیے اسے ریکارڈ کر لیا۔‘‘

ویڈیو آن لائن پوسٹ کرنے کے بعد، خاتون نے پایا کہ انہیں گالیوں کی بوچھار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس ایک ویڈیو سے مجھے جتنی نفرت ملی ہے، وہ پاگلپن ہے۔ ایسی گالیاں دی گئیں، جن کے بارے میں مجھے پتہ بھی نہیں تھا۔ پرتشدد بیان بازی اور نفرت انگیز الفاظ اب X پر اتنی آسانی سے پھیل سکتے ہیں۔ میں اس ملک میں رنگ برنگے لوگوں کے حقوق کے بارے میں گہرائی سے سوچتی ہوں، اور مجھے لگتا ہے کہ ہم پیچھے ہٹ رہے ہیں۔‘‘

ہند نژاد خاتون نے اس واقعہ کی اطلاع برٹش ٹرانسپورٹ پولیس (بی ٹی پی) کو دی ہے۔ انہوں نے اپنے ورثے پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’ہندوستانی ہونا، تارکین وطن کی بیٹی ہونا، اپنی تاریخ اور ورثے سے جڑنا ایک نعمت ہے۔ میں اپنے لیے اور رنگ برنگے لوگوں کے لیے کھڑی ہوتی ہوں، اور میں سبھی کی مکمل حمایت کرتی ہوں۔‘‘

یہ واقعہ اونتی ویسٹ کوسٹ ٹرین میں ایک اور نسل پرستانہ تصادم کے چند دن بعد پیش آیا، جہاں ایک خاتون نے نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کے ڈینٹسٹ سے کہا تھا کہ ’اپنے ملک واپس جاؤ‘۔

واقعے کی ایک ویڈیو میں خاتون کو نیشنل ہیلتھ سروس کے ڈینٹسٹ کے خلاف نسل پرستانہ تبصرے کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ خاتون اپنے ساتھی مسافر سے ’مراکش یا تیونس‘ واپس جانے کے لیے کہہ رہی تھی۔

ان پے در پے واقعات نے برطانیہ کو چونکا دیا ہے۔ اس نے عوامی مقامات پر بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور نسلی زیادتی کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Netanyahu Invites PM Modi & Captain Smit: اسرائیل کے یوم آزادی پر پی ایم مودی اور کیپٹن اسمت مچھار کو خصوصی دعوت، نیتن یاہو نے فون پر کی بات

اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…

8 hours ago

PM Modi Public Service Exhibition: گجرات میں وزیر اعظم مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کی نمائش، وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے کیا معائنہ

پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…

8 hours ago