بین الاقوامی

بنگلہ دیش کے عبوری وزیراعظم محمد یونس کے مشیر محفوظ عالم کا عجیب وغریب بیان، وزارت خارجہ نے دیا زبردست جواب

بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ حکومت کے زوال اورنئی عبوری حکومت کی تشکیل کے بعد سے بنگلہ دیش سے مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں۔ کبھی کولکاتا پرقبضہ، کبھی بنگال، بہار، اوڈیشہ اور سیون سسٹرس پرقبضہ کرنے کی دھمکی دی جارہی ہے۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے مشیروں میں سے ایک محفوظ عالم کے ایک فیس بک پوسٹ سے متعلق ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ انہوں نے مغربی بنگال، آسام اورتری پورہ کو بنگلہ دیش کا حصہ بتایا تھا۔ اس پروزارت خارجہ نے سخت ردعمل کا اظہارکیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس موضوع پربنگلہ دیش کے سامنے اپنا سخت احتجاج درج کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جس پوسٹ کا ذکرکیا جا رہا تھا، اسے مبینہ طورپرہٹا دیا گیا ہے۔ ہم سبھی متعلقہ فریق کو ان کے عوامی تبصرہ کے تئیں محتاط رہنے کی یاد دلانا چاہیں گے، جبکہ ہندوستان نے باربار بنگلہ دیش کے لوگوں اورعبوری حکومت کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے میں دلچسپی رکھنے کا اشارہ دیا ہے۔ اس طرح کے تبصرے عوامی اظہارمیں ذمہ داری کی ضرورت پرزوردیتے ہیں۔

محفوظ عالم کا فیس بک پوسٹ

محفوظ عالم نے اپنے فیس بک پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کا خواب پورے بنگال کے لئے ہے۔ ہندوستان اورپاکستان کی سیاست کی وجہ سے بنگال بکھرا ہوا ہے۔ ان کے الفاظ میں فتح توہوگئی، لیکن مکمل آزادی ابھی بہت دورہے۔ ہمالیہ سے خلیج بنگال تک بستیوں کوبحال کئے بغیر ہم مشرقی پاکستان سے ہوتے ہوئے بنگلہ دیش سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتے۔ محفوظ عالم بنگلہ دیش کے بااثرلوگوں میں سے ایک ہیں۔ وہ عبوری حکومت کے مشیرہیں۔ ان کے پاس کوئی وزارت مختص نہیں ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ چیف ایڈوائزرکے دفتر سے تمام محکموں کی نگرانی کرتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جولائی-اگست میں، امریکہ میں ایک تقریب میں، محفوظ عالم کوبنگلہ دیش میں “منصوبہ بند انقلاب کے ماسٹرمائنڈ” کے طور پرمتعارف کرایا گیا تھا۔

ہندوستان کے ان ریاستوں کو بتایا بنگلہ دیش کا حصہ

محفوظ عالم نے وجے دیوس کی رات فیس بک پرایک لمبا پوسٹ کیا۔ دو گھنٹے کے بعد انہوں نے اسے ہٹا دیا، لیکن اس پرتنازعہ کھڑا ہوگیا۔ محفوظ عالم کا پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا، ”75 اور 24 کو اس ریاست کے پیدائشی نشان، ہندوستان کی محکومی اورہندوستان کے تسلط کو آزاد رکھنے کے لئے کرنا پڑا۔ دونوں واقعات کے درمیان 50 سال کا وقفہ ہے، لیکن حقیقت میں کچھ نہیں بدلا۔ نئے جغرافیہ اوربستیوں کی ضرورت ہوگی۔ ایک بکھری ہوئی زمین، ایک پیدائشی نشان جو ریاست کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے مغربی بنگال کی شمال مشرقی ریاستوں بشمول مرشد آباد، جلپائی گوڑی، سیون سسٹرس یعنی تری پورہ، منی پورکو متحدہ بنگال بنانے کی بات کی۔ محفوظ عالم کے مطابق اگریہ نقشہ نہیں بنے گا تومکمل آزادی نہیں ملے گی۔

بھارت ایکسپریس۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Prime Minister Modi: دہلی میں ماحولیات پر بڑا بین الاقوامی اجلاس، وزیر نریندر اعظم مودی 19 ستمبر کو کریں گے افتتاح

’ماحولیات اور آب و ہوا کی حرکیات کا مستقبل‘ کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس،…

6 minutes ago

Travis Head: ٹریوس ہیڈ کی طوفانی سنچری، آسٹریلیا کا زمبابوے کے خلاف ون ڈے میں اب تک کا سب سے بڑا اسکور

زمبابوے کی جانب سے گیند بازی میں بریڈ ایونز نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں…

25 minutes ago

20th Rozgar Mela: روزگار میلے میں وزیر اعظم نریندر مودی 51 ہزار سے زائد نوجوانوں کو دیں گے تقرری نامے

روزگار میلے کے ذریعے جن شعبوں میں نوجوانوں کو ملازمتیں دی جا رہی ہیں، ان…

57 minutes ago

Provident Fund Organisation: ای پی ایف او کی تنخواہ کی حد بڑھنے سے ملازمین پر کیا اثر پڑے گا،کیوں ہو رہی ہے تنقید؟

ایمپلائز ڈپازٹ لنکڈ انشورنس اسکیم (EDLI) کے تحت ای پی ایف کے ارکان کو ملازمت…

60 minutes ago

PM Modi Shares Sanskrit Subhashit: وزیر اعظم نریندر مودی نے خصوصی سنسکرت سبھاشیت شیئر کیا، خود انحصاری اور خدمت کا دیا پیغام

وزیر اعظم کی جانب سے شیئر کیے گئے اس سنسکرت سبھاشیت میں خود کفالت اور…

1 hour ago