بین الاقوامی

Bangladesh General Election 2026: بنگلہ دیش کا انتخابی حال! لیگ کے دفتر پر تالا، سڑکوں پر فوج، جماعت اسلامی اور بی این پی کے درمیان زبردست مقابلہ

تختہ پلٹ، تشدد اور 18 ماہ کی عبوری حکومت کے بعد آج بنگلہ دیش اپنی نئی تقدیر لکھنے جا رہا ہے۔ ملک کی 12ویں پارلیمنٹ کے لیے آج صبح 7:30 بجے (بھارتی وقت کے مطابق صبح 7 بجے) سے ووٹنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ اگست 2024 میں شیخ حسینہ (Sheikh Hasina) کی حکومت کے خاتمے اور محمد یونس (Muhammad Yunus) کی عبوری حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد یہ پہلا عام انتخاب ہے۔ 299 نشستوں کے لیے 51 جماعتوں کے 2,034 امیدوار میدان میں ہیں۔ نتائج کل یعنی 13 فروری کو سامنے آئیں گے۔ اس بار کا انتخاب اس لیے تاریخی مانا جا رہا ہے کہ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ عوامی لیگ (Awami League) انتخابی میدان سے غائب ہے۔ لیگ پر پابندی عائد ہے اور ڈھاکہ میں واقع اس کے مرکزی دفتر پر تالا لگا ہوا ہے۔

جماعت اسلامی بمقابلہ بی این پی (Bangladesh Election 2026 Update)

سیاسی منظرنامہ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ اصل مقابلہ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) اور اسلام پسند جماعتِ اسلامی (Jamaat-e-Islami) کے درمیان ہے۔ جماعتِ اسلامی 11 جماعتوں کے اتحاد کی قیادت کر رہی ہے، جس میں طلبہ کی حمایت یافتہ ’نیشنل سٹیزن پارٹی‘ بھی شامل ہے۔ اس اتحاد کا چہرہ شفیق الرحمان ہیں۔

پورا بنگلہ دیش چھاؤنی میں تبدیل (Bangladesh Election Voting)

انتخابات کے پیش نظر پورے ملک کو قلعے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ سکیورٹی کے لیے 9 لاکھ پولیس اہلکاروں اور سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ فوج کو 14 فروری تک ’اسپیشل الرٹ‘ پر رکھا گیا ہے۔

اقلیتیں اور خواتین خوفزدہ

انتخابات کے دوران اقلیتی برادریوں میں عدم تحفظ کا احساس عروج پر ہے۔ اس لیے اسلام پسند جماعت، جماعت اسلامی نے اپنے انتخابی منشور میں اقلیتوں کے تحفظ کو اولیت دی ہے۔  ان انتخابات میں خواتین کی بھی زبردست دلچسپی نظر آ رہی ہے اورجمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے ووٹنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی دکھائی دے رہی ہیں۔

بنگلہ دیش کا انتخابی نظام کیسا ہے؟ (Bangladesh Election System)

بنگلہ دیش میں 300 نشستوں والی پارلیمنٹ کے لیے ’فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ‘ (FPTP) نظام کے تحت ووٹنگ ہو رہی ہے۔ جس جماعت کو 151 نشستیں ملیں گی، وہ حکومت بنائے گی۔ اس کے علاوہ 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں، جو کامیاب جماعتوں میں ان کے ووٹ شیئر کے تناسب سے تقسیم کی جائیں گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

11th Whiteswan Responsible Art Festival: 11واں وائٹ سوان آرٹ فیسٹیول: کتھک رقاصہ سنیہا مکھرجی نے مسحور کن پیشکش سے باندھا سماں

سنیہا مکھرجی نے کلیان ٹھات میں رام استوتی اور راگ کلاوتی میں ترانہ پیش کیا،…

41 minutes ago

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

16 hours ago