بین الاقوامی

Russia-Ukraine War: فروری 2022 سے اب تک یوکرینی حملوں میں تقریباً 8,500 روسی شہری ہلاک: ماسکو کا دعویٰ

نئی دہلی : روس نے دعویٰ کیا ہے کہ فروری 2022 سے اب تک یوکرین کی جانب سے کیے گئے فوجی حملوں میں تقریباً 8,500 روسی شہری ہلاک جبکہ مجموعی طور پر 30 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ روسی حکام نے شہری علاقوں پر حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے ان واقعات کی بین الاقوامی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔روسی وزارتِ خارجہ کے ایمبیسیڈر ایٹ لارج روڈیون میروشینک نے ایک بریفنگ کے دوران بتایا کہ فروری 2022 سے 30 جون 2026 تک یوکرینی حملوں میں مجموعی طور پر 30,913 شہری متاثر ہوئے، جن میں 8,434 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ باقی زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران یوکرین کے حملوں نے روس کے 42 مختلف علاقوں میں شہری بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے۔

میروشینک نے کئی اہم واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسٹاروبیلسک میں ایک کالج پر حملہ، برائنسک کے علاقے میں بیلاروسی بچوں کو لے جانے والی بس کو نشانہ بنانا اور یناکیئیوو میں ایک مسافر بس پر حملہ ایسے واقعات ہیں جن میں عام شہری متاثر ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے شہری آبادی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

روسی عہدیدار کے مطابق 2014 سے اب تک 373 بچے ہلاک جبکہ 1,845 بچے زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یوکرین کی کارروائیوں میں شہری تنصیبات اور عام آبادی کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔روس نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (OHCHR) کے دفتر کو ایک باضابطہ سفارتی نوٹ بھیجا ہے، جس میں ان واقعات کی آزاد اور بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن نے بتایا کہ روسی فضائی دفاعی نظام نے جمعہ کے روز ماسکو کو نشانہ بنانے والے 28 ڈرون مار گرائے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ رات کے وقت بھی روسی دارالحکومت کی جانب بڑھنے والے مزید آٹھ ڈرون تباہ کیے گئے۔سوبیانن کے مطابق ہنگامی امدادی ٹیمیں ان مقامات پر کام کر رہی ہیں جہاں ڈرون کا ملبہ گرا ہے، تاہم فوری طور پر کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔

ادھر روس نے مشرقی یوکرین میں ایک اور بڑی فوجی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی افواج نے کوسٹیانتینیوکا (Kostiantynivka) شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے روسی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا کہ یہ شہر اب مکمل طور پر روسی فوج کے قبضے میں ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اس پیش رفت کو اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوسٹیانتینیوکا ڈونباس کا ایک بڑا صنعتی اور اہم ٹرانسپورٹ مرکز ہے۔ ان کے مطابق 2026 کے آغاز سے اب تک روسی افواج نے ڈونباس اور نووروسیا کے علاقوں میں 133 بستیوں اور 3,000 مربع کلومیٹر سے زیادہ علاقے پر کنٹرول حاصل کیا ہے۔واضح رہے کہ مذکورہ اعداد و شمار، فوجی کامیابیوں اور الزامات کا دعویٰ روسی حکام کی جانب سے کیا گیا ہے، جبکہ یوکرین نے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے اور جنگ سے متعلق دونوں فریق اکثر ایک دوسرے کے بیانات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

7 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

8 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

8 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

9 hours ago