بین الاقوامی

Ahmadinejad Set To Contest Iran Presidential Polls: سابق ایرانی صدر احمدی نژاد صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل،آیت اللہ خامنہ ای کیلئے بن سکتے ہیں مصیبت

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت کے بعد صدارت کے منصب تک پہنچنے کے لیے قدامت پسند امیدوار سامنے آ رہے ہیں۔ایران میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے الیکشن 28 جون کو ہوں گے جس کے لیے کاغذات نامزدگی جمعرات سے جمع ہونا شروع ہوں گے۔ ممکنہ امیدوار پانچ دن تک کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا سکیں گے۔انتخابات کے لیے امیدواروں کی حتمی منظوری ایران کی سب سے اعلیٰ شوریٰ نگہبان دے گی۔ شوریٰ نگہبان ملک کا ایک غیر منتخب فورم ہے جس میں زیادہ تر افراد ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے وفادار ہیں۔ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو 19 مئی کو صوبہ مشرقی آذربائیجان میں حادثہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں صدر رئیسی، وزیرِ خارجہ حسین امیر عبدالہیان، تبریز میں نمازِ جمعہ کے امام آیت اللہ آلِ ہاشم، مشرقی آذربائیجان کے گورنر جنرل مالک رحمتی سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ابراہیم رئیسی کی موت کے بعد ایران کے آئین کے مطابق نئے صدر کا انتخاب آئندہ 50 روز میں ہونا ہے۔ اس وقت تک ایران کے اول نائب صدر محمد مخبر عبوری صدر کی ذمے داریاں ادا کر رہے ہیں۔محمد مخبر کو بھی ابراہیم رئیسی کی طرح ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ محمد مخبر 2021 کے انتخابات میں ابراہیم رئیسی کی کامیابی کے بعد اول نائب صدر بنے تھے۔ایران میں رواں ماہ کی 28 تاریخ کو صدارتی انتخابات کا انعقاد ہو رہا ہے۔ ا ور رپورٹ یہ ہے کہ سابق صدر محمود احمدی نژاد نے بھی ان انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم  انتخابی دوڑ میں شامل ہونے سے انہیں روکا بھی جا سکتا ہے۔ علماء و فقہاء کے زیرِ قیادت ملک کی شوریٰ نگہبان (گارڈیئن کونسل) امیدواروں کی جانچ پڑتال کرے گی، جس کے بعد 11 جون کو اہل امیدواروں کی فہرست شائع ہو گی۔احمدی نژاد ایران کے پاسداران انقلاب کے سابق رکن بھی ہیں۔ وہ پہلی مرتبہ سن 2005 میں ایران کے صدر کے طور پر منتخب ہوئے تھے اور سن 2013 میں مدت ختم ہونے پر اس عہدے سے دستبردار ہوئے تھے۔

وہیں ایران میں آئندہ ماہ ہونے والے الیکشن میں ایک ممکنہ امیدوار اس وقت ملک کے قائم مقام صدر محمد مخبر بھی ہو سکتے ہیں۔ایران کے میڈیا میں چند ممکنہ امیدواروں کے نام زیرِ گردش ہیں۔رپورٹ کے مطابق  سعید جلیلی بھی امیدواروں میں شامل ہو سکتے ہیں۔ وہ ایک سخت گیر شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں اور وہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل (شوریٰ عالی امیت ملی) کے سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں جب کہ اس وقت اس کونسل میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے نمائندے ہیں۔انتخابات میں دوسرے اہم ترین امیدوار علی لاریجانی ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس کی تصدیق اس وقت ہو سکے گی جب ایران کی شوریٰ نگہبان انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Air India Flight Suspension: سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایئر انڈیا کی سعودی عرب آنے اور جانے والی پروازیں 14 نومبر تک معطل

یہ تازہ ایڈوائزری اس اعلان کے صرف چھ دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں…

8 hours ago

The BJP’s New Balance in UP: یوگی کی زمین، مودی کا آسمان: یوپی میں بی جے پی کا نیا سیاسی توازن

امت شاہ کے لکھنؤ دورے اور ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد 2027 اور…

8 hours ago

CM Yogi’s leadership in UP: کیا امت شاہ نے یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت پر مہر لگا دی؟ 2027 اور 2029 کے سیاسی فارمولے کا پورا حساب

لکھنؤ میں بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد قیاس آرائیاں…

9 hours ago

Supreme Court on UP SIR: اتر پردیش ایس آئی آر معاملے میں سپریم کورٹ سخت، الیکشن کمیشن کو تحقیقات کی ہدایت

سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرانے کے لیے بڑی…

9 hours ago