وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات مزید جارحانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس بار ان کی توجہ کسی مخالف ریاست پر نہیں بلکہ امریکہ کے ایک پرانے اتحادی اور نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کے زیرِ انتظام خود مختار خطے گرین لینڈ پر مرکوز ہے۔ ٹرمپ نے کھلے عام کہا ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنا ضروری ہے، جس کے بعد یورپ اور امریکہ دونوں میں سفارتی ہلچل مچ گئی ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان پر ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے توہین آمیز اور ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے اور امریکہ کو اپنے اتحادی ملک کو دھمکانے سے باز آنا چاہیے۔ یہ تنازع اس لیے بھی حساس ہو گیا ہے کیونکہ گرین لینڈ ڈنمارک کا خود مختار علاقہ ہے اور ڈنمارک نیٹو کا مکمل رکن ہے، جس سے اتحاد کے اندر ایک نیا بحران جنم لیتا دکھائی دے رہا ہے۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو گرین لینڈ کی ضرورت ہے کیونکہ ڈنمارک اسے مؤثر انداز میں سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق گرین لینڈ اس وقت روسی اور چینی بحری جہازوں سے گھرا ہوا ہے اور آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی سرگرمیاں امریکہ کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ قومی مفاد کے تحفظ کے لیے امریکہ کو وہاں اپنی موجودگی مضبوط کرنی ہوگی۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے ٹرمپ کے ان بیانات کو براہِ راست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک اور گرین لینڈ دونوں نیٹو کا حصہ ہیں اور امریکہ کے ساتھ پہلے ہی دفاعی معاہدے موجود ہیں، جن کے تحت امریکہ کو گرین لینڈ میں فوجی رسائی حاصل ہے۔ اس کے باوجود قبضے کی بات کرنا ایک اتحادی کے لیے ناقابلِ قبول رویہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ گرین لینڈ کے عوام اور اس کی سرزمین کسی سودے کا حصہ نہیں بن سکتے۔
ماہرین کے مطابق گرین لینڈ جغرافیائی طور پر شمالی امریکہ کے قریب واقع ہے، مگر سیاسی طور پر یورپ سے جڑا ہوا ہے اور اسی وجہ سے یہ امریکہ کے لیے غیر معمولی اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں نایاب معدنیات، یورینیم، تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ گلوبل وارمنگ کے باعث برف پگھلنے سے ان وسائل تک رسائی آسان ہو رہی ہے، جس نے عالمی طاقتوں کی دلچسپی مزید بڑھا دی ہے۔ امریکہ آرکٹک خطے میں روس اور چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے گرین لینڈ میں اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ کے بیانات نے نیٹو کے سامنے ایک سنگین سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اگر امریکہ نے گرین لینڈ پر زبردستی قبضے کی کوشش کی تو کیا نیٹو کا آرٹیکل 5 فعال ہوگا؟ اس آرٹیکل کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ پورے اتحاد پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ چونکہ امریکہ اور ڈنمارک دونوں نیٹو کے رکن ہیں، اس لیے ایسی صورت میں اتحاد کے لیے یہ فیصلہ کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا کہ وہ کس کے ساتھ کھڑا ہو۔ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب ٹرمپ کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف کی اہلیہ کیٹی ملر نے سوشل میڈیا پر گرین لینڈ کو امریکی پرچم کے رنگوں میں دکھاتے ہوئے ’جلد ہی‘ کے الفاظ کے ساتھ پوسٹ کیا، جسے ڈنمارک کی خود مختاری کے لیے کھلا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ ادھر ٹرمپ نے کولمبیا کے خلاف بھی سخت مؤقف اپناتے ہوئے منشیات اسمگلنگ کے الزامات لگائے اور ’آپریشن کولمبیا‘ کا اشارہ دیا، جس سے لاطینی امریکہ میں بھی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ عالمی برادری اب اس بدلتی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
اس حساب سے اگر تقریباً 5 سیکنڈ کی اے آئی ویڈیو تیار کی جائے تو…
تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…
ساحل کے والد نے صرف استاد کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیکلٹی کے سینئر افسران…
اویسی نے حال ہی میں بھوپال میں منعقد اپنے پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ وہاں…
واقعے کے بعد سرکاری طبی مرکز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر بھی سوال…
پریم سنگھ کے پاس اس وقت تقریباً 6.3 کلوگرام سونا ہے، جسے وہ روزانہ پہن…