بیجنگ: چین کی راجدھانی بیجنگ اور اس کے شمالی باہری علاقے گزشتہ کئی دنوں سے شدید بارش اور اچانک سیلاب کی لپیٹ میں ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم 34 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 80,000 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے اعلیٰ حکام کو لاپتہ افراد کی تلاش، متاثرین کی آباد کاری، اور امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔
میون اور یان کنگ سب سے زیادہ متاثر
سرکاری میڈیا کے مطابق بیجنگ کے میون ضلع میں سب سے زیادہ 28 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جب کہ یان کنگ میں بھی دو افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ بارش کے باعث کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈ ہوئی، خاص طور پر ہیبئی صوبہ میں، جہاں سے متاثرین کی بڑی تعداد سامنے آئی ہے۔ اب تک 136 دیہاتوں میں بجلی منقطع ہو چکی ہے اور درجنوں سڑکیں تباہ ہو گئی ہیں۔
خطرناک حد تک پانی کی سطح، نقل مکانی تیز
حکام کے مطابق بیجنگ کے دیہی میون ضلع میں واقع آبی ذخائر اپنی 1959 کی تعمیر کے بعد سب سے بلند سطح تک پہنچ گیا، جس کے بعد وہاں سے پانی چھوڑنا پڑا۔ اس کے نتیجے میں ندیوں کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوا اور آس پاس کے علاقوں میں خطرہ بڑھ گیا۔ شہریوں کو ندیوں کے کنارے سے دور رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔
بجلی کے کھمبے، گاڑیاں بہہ گئیں
لوان پنگ کاؤنٹی سے متصل میون ضلع میں بارش کے سبب کاریں بہہ گئیں اور بجلی کے کھمبے گر گئے۔ وزیر اعظم لی کیانگ نے بھی صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ میون میں بارش اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔
2023 کی یاد تازہ، امدادی کارروائیاں جاری
چینی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ہیبئی صوبے کے لیے 50 ملین یوآن (تقریباً 7 ملین امریکی ڈالر) کی امداد جاری کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ شہروں جیسے چینگدے، باؤڈنگ، اور جھانگ جیا کو میں ہنگامی ٹیمیں روانہ کی گئی ہیں۔ بیجنگ اور ہیبئی دونوں کو 2023 میں بھی شدید سیلاب کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور اس بار کی تباہی نے پھر وہی منظر تازہ کر دیا ہے۔
سڑکوں پر پانی، دیواروں پر کیچڑ
تائی شیتون شہر کے مناظر انتہائی خوفناک ہیں جہاں سڑکیں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں، درخت اکھڑ چکے ہیں اور کیچڑ نے دیواروں کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ سیلاب نے اچانک حملہ کیا، اور پلک جھپکتے میں ہر طرف پانی بھر گیا۔
آئندہ مزید بارش کا امکان
محکمہ موسمیات نے اگلے چند دنوں کے دوران مزید تیز بارش کی پیش گوئی کی ہے، اور بعض علاقوں میں 30 سینٹی میٹر تک بارش ہونے کا اندیشہ ہے۔ سی سی ٹی وی کے مطابق صرف بیجنگ کے مختلف اضلاع سے 30,000 سے زائد افراد کو نکالا گیا ہے، جن میں سے 6,400 افراد صرف میون ضلع سے ہیں۔
چین اس وقت ایک شدید ماحولیاتی بحران سے دوچار ہے۔ بیجنگ اور قریبی علاقے شدید بارش اور سیلاب کی لپیٹ میں ہیں، اور حکومتی مشینری پوری شدت سے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی کیانگ نے ریاستی سطح پر ہنگامی ردعمل کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم صورتحال بدستور تشویشناک بنی ہوئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ پائیدار ترقی (Sustainability) ہندوستان کی روایت…
اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…
لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…
بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…