بین الاقوامی

Girl who spoke out against Russia imprisoned: ولادیمیرپُتن کی نظروں میں چبھ گئی ’ڈاریا کوزیریوا، روسی حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والی 19 سالہ لڑکی کو 2 سال 8 ماہ کی قید

روس-یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ اسی درمیان روس میں 19 سالہ ڈاریا کوزیریوا کو جیل بھیجنے کی خبر سامنے آئی ہے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ روسی حکومت اس لڑکی سے کیوں اس قدر خائف ہے کہ اسے جیل کے اندر ڈال دیا۔ ’رائٹرز‘ میں شائع ایک خبر کے مطابق، کوزیریوا روسی فوج کو مسلسل عوامی طور پر بدنام کرتی آ رہی ہے۔ حال کے دنوں میں اس نے چوراہے پر بنے مجسمے پر ایک پوسٹر چسپاں کر دیا۔ جس میں 19ویں صدی کے ایک انقلابی کی کچھ لائنیں لکھیں تھیں، یہ عمل ہی اس کے گلے کا پھانس بن گیا۔

روسی حکومت کے خلاف لکھنے سے باز نہیں آئی

اس سے قبل بھی وہ مسلسل روسی فوج اور حکومت کے خلاف لکھتی رہی ہے۔ اس وجہ سے پہلے بھی اس کو گھر میں نظر بند کیا گیا اور حراستی مرکز تک بھیجا گیا۔ اس کے باوجود بھی یہ لڑکی روسی حکومت کے خلاف لکھنے سے باز نہیں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ کئی بار روسی انتظامیہ نے اس پر جرمانہ بھی عائد کیا، لیکن اس بار روسی حکومت نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اسے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا۔ مسجمے پر انقلابی لائنیں لکھنے کے معاملے میں اس نوجوان لڑکی کو 2 سال 8 ماہ کی سزا سنائی گئی۔ انہوں نے مجسمے پر جو انقلابی لائنیں لکھی تھیں اس کا مطلب ہے ’اگر وہ خود بھی مر جائے تو لوگ اس کی موت کو رائیگاں نہ جانے دیں، ناانصافی اور ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں۔‘

17 سال کی عمر میں پہلی بار فوج کے خلاف آواز اٹھائی

سزا سنائے جانے سے قبل ڈاریا کوزیریوا نے ایک انٹرویو میں خود کو بے گناہ قرار دیا اور کہا کہ اس کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ڈاریا کوزیریوا ان 243 لوگوں میں سے ایک ہے، جنہیں جنگ مخالف موقف رکھنے کی وجہ سے جیل بھیجا گیا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ ڈاریا کوزیریوا نے اس طرح سے حکومت کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ سال 2022 میں بھی انہوں نے پتھر پر بنے ایک آرٹ پر لکھا ’ قاتلوں، تم نے اس پر بمباری کی۔ جوڈاسیس۔‘ اس نے جوڈاسیس اس لیے لکھا کہ بائبل میں یہ ایک کردار کا نام ہے۔ اسی نے یسوع مسیح کو دھوکہ دیا تھا۔ واضح ہو کہ اس نے سب سے پہلے جب روسی فوج کے خلاف آواز اٹھائی تھی تو اس وقت اس کی عمر صرف 17 سال تھی۔ اس وقت وہ سینٹ پیٹرزبرگ اسٹیٹ یونیورسٹی میں میڈیکل کی طالبہ تھی۔ 2024 میں اس پر 370 ڈالر کا جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ ساتھ اسے یونیورسٹی سے بھی نکال دیا گیا تھا۔

تمام افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا، ‘ڈاریا کوزیریواکو 19ویں صدی کی ایک نظم کا حوالہ دینے، ایک غیر منصفانہ جنگ کے خلاف بولنے اور خاموش نہ رہنے کی سزا دی جا رہی ہے۔’ ایمنسٹی نے ڈاریا کوزیریوااور جنگی سنسر شپ قوانین کے تحت قید تمام افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ روسی انسانی حقوق کے گروپ کے مطابق، 2022 کے یوکرین پر حملے کے بعد سے روس میں سیاسی بنیادوں پر 1500 سے زیادہ افراد کو قید کیا گیا ہے۔ ڈاریا کوزیریوا کی سزا اس جبر کی ایک اور مثال ہے۔

ڈاریا کوزیریوا نے جس نظم کو کا حوالہ دیا وہ نظم اس طرح ہے:

مجھے دفن کر دو، دوبارہ اٹھو/ اپنی بھاری زنجیریں توڑ دو/ اور اپنی آزادی کو آمروں کے خون سے سینچو۔

لاکھوں روسی نوجوانوں کے لیے تحریک

ڈاریا کوزیریوا کی کہانی صرف ایک شخص کی نہیں بلکہ روس کے ان تمام نوجوانوں کی ہے جو جنگ کے خلاف آواز اٹھانے کی جرأت کر رہے ہیں۔ روسی انسانی حقوق کی تنظیم OVD-Info کے مطابق 2009 سے اب تک کم از کم 35 نابالغوں پر سیاسی جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ڈاریا کوزیریوا نے اپنے آخری بیان میں کہا، ‘میرا ضمیر صاف ہے، میں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔’ اس کا بیان روس میں انسانیت اور انصاف کی لڑائی کی عکاسی کرتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Dr. Manmohan Singh: پی ایم مودی، ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی سمیت کئی لیڈروں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یوم پیدائش پر کیا یاد

کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…

2 hours ago

CEC Gyanesh Kumar: گیانیش کمار کو جانا ہی ہوگا، کانگریس کا مطالبہ، کاکروچ جنتا پارٹی کا آج ختم ہو رہا ہےالٹی میٹم

کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…

4 hours ago

Major Plane Crash in Congo: کانگو میں بڑا طیارہ حادثہ، 2 فوجی افسران سمیت 14 افراد ہلاک

فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…

4 hours ago