نئی دہلی :آنجہانی صنعت کار اور سونا گروپ کے مالک سنجے کپور کی وموت کے بعد شروع ہونے والا اربوں روپے کی جائیداد اور فیملی ٹرسٹ کا تنازع اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ اس طویل قانونی لڑائی کو حل کرنے کے لیے سپریم کورٹ نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ملک کے سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کو اس معاملے میں ثالث مقرر کر دیا ہے۔سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران خاندان کے تمام فریقین نے ثالثی کے عمل پر رضامندی ظاہر کی۔ عدالت نے کہا کہ اگر یہ معاملہ اسی طرح عدالتوں میں چلتا رہا تو اس کے حل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے بہتر یہی ہے کہ خاندان کے افراد آپسی بات چیت اور مفاہمت کے ذریعے اس تنازع کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔عدالت عظمیٰ نے تمام فریقوں کو سخت ہدایات بھی جاری کیں۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اب اس معاملے سے متعلق کوئی بھی فریق میڈیا میں بیان نہیں دے گا اور نہ ہی سوشل میڈیا پر اس تنازع سے متعلق کوئی پوسٹ کرے گا۔ عدالت نے اس کیس کی اگلی سماعت اگست میں مقرر کی ہے۔
یہ پورا تنازع سنجے کپور کی موت کے بعد ان کی جائیداد، خاندانی ٹرسٹ اور وراثت کے حقوق کو لے کر شروع ہوا تھا۔ سنجے کپور کی والدہ رانی کپور نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرتے ہوئے فیملی ٹرسٹ کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی تھی۔ ان کا الزام ہے کہ یہ ٹرسٹ ان کی معلومات اور اجازت کے بغیر بنایا گیا۔رانی کپور کا کہنا ہے کہ اس ٹرسٹ کے ذریعے خاندان کی جائیدادوں اور وراثتی اثاثوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ حتمی فیصلے تک جائیدادوں کی منتقلی یا فروخت پر موجودہ صورتحال برقرار رکھی جائے۔
اس سے قبل سپریم کورٹ نے سنجے کپور کی اہلیہ پریا کپور کو بھی نوٹس جاری کیا تھا۔ گزشتہ سماعت میں بھی عدالت نے دونوں فریقوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ثالثی کے ذریعے اس معاملے کا حل نکالنے کی کوشش کریں۔اس تنازع میں پریا کپور اور رانی کپور کے علاوہ بالی ووڈ اداکارہ کرشمہ کپور اور ان کے بچوں سمیرا کپور اور کیان کپور کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔ کرشمہ کپور نے اپنے بچوں کی جانب سے وراثت سے متعلق مقدمہ دائر کیا تھا۔ دوسری طرف رانی کپور نے دعویٰ کیا کہ ان کے مرحوم شوہر ڈاکٹر سریندر کپور کی پوری جائیداد کی وہ واحد قانونی وارث ہیں۔
رانی کپور نے الزام لگایا کہ سال 2017 میں کئی غیر قانونی لین دین کے ذریعے ان کی جائیدادوں کو فیملی ٹرسٹ میں منتقل کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بیماری کے دوران ان سے کئی دستاویزات پر دستخط کروائے گئے، جن میں کچھ کاغذات خالی تھے اور انہیں مکمل معلومات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔دوسری جانب پریا کپور نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے خاندان کے چند افراد کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ بھی دائر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا اور عوامی پلیٹ فارمز پر ان کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو
وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں لکھا کہ یہ افسوسناک خبر سن کر انہیں گہرا…
وزیر داخلہ نے کہا ’’راہل بابا، میں آپ دونوں، یعنی آپ اور اکھلیش یادو کو…
تقریباً 90 منٹ تک جاری رہنے والے اس ڈرامے میں بنکم چندر چٹوپادھیائے کے 1882…
ہندوستانی خاتون پہلوان منیشا بھنوالا نے تاریخ رقم کرتے ہوئے قزاقستان کے آستانہ میں جمعہ…
فلم ’نوٹس‘ کی کہانی ایک متوسط طبقے کے خاندان اور اس کی تقریباً 150 سال…
ذرائع کے مطابق، سماجوادی پارٹی کے سینئرلیڈراعظم خان اوران کے بیٹے عبداللہ اعظم ہفتہ (31…