فری پرس جرنل کی رپورٹ کے مطابق، پاکستانی اداکارہ حمیرا اصغرعلی کی لاش اسی ہفتے ملنے کے بعد اس کا پوسٹ مارٹم کرایا گیا۔ جیو ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اداکارہ کی حالت اتنی زیادہ خراب ہوچکی تھی کہ ان کے ہاتھ کی انگلیوں اور ناخن تک ہڈی میں پوری طرح سے دھنس چکے تھے۔ دماغ یا برین میں جو سبسٹینس موجود ہوتا ہے، وہ آٹولیسس کے ذریعہ پوری طرح سے سڑچکا تھا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ حمیرا اصغر علی کے پرائیویٹ پارٹس پورے کالے پڑچکے تھے اور ان میں بھورے رنگ کے کیڑے پڑگئے تھے۔ سرکی ہڈی توموجود تھی، لیکن ریڑھ کی ہڈی گل چکی تھی۔ لاش اتنی بری طرح سے سڑچکی تھی کہ اداکارہ کی موت کی اصلی وجہ معلوم کرنا ناممکن ہوچکا ہے۔ حالانکہ فورنسک ٹیم حمیرا اصغر کا ڈی این اے اور ٹاکسکولوجی ٹسٹ کررہی ہے، جس سے کچھ جانکاری مل سکتی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستانی اداکارہ حمیرا اصغرعلی کی لاش کراچی کے ڈیفنس علاقے میں واقع اپارٹمنٹ سے برآمد کی گئی تھی۔ گزشتہ روز انڈیا فورمس کی رپورٹ سے انکشاف ہوا تھا کہ اداکارہ کی موت گزشتہ سال اکتوبر، 2024 میں ہوگئی تھی۔ چونکہ ان کے فلور پر کوئی دوسرا نہیں رہتا تھا، اس لئے کسی کو بدبو تک نہیں آئی۔