مشہور کاروباری شخصیت اور ’شارک ٹینک انڈیا‘ کی جج نمیتا تھاپر حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک پرانی ویڈیو کے باعث شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہیں۔ عید کے موقع پر نماز کے جسمانی فوائد بیان کرنے والی ان کی پوسٹ پر کئی صارفین نے اعتراضات اٹھائے، جس کے بعد انہیں ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ اب تقریباً تین ہفتے بعد انہوں نے ایک نئی ویڈیو جاری کرتے ہوئے اس تنازع پر اپنی وضاحت پیش کی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب مارچ کے آخری ہفتے میں نمیتا تھاپر نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی۔ اس ویڈیو میں انہوں نے بتایا کہ ان کی ایک دوست نے انہیں نماز پڑھنے کے جسمانی فوائد کے بارے میں آگاہ کیا۔ نمیتا کے مطابق نماز ایک طرح کی مکمل جسمانی ورزش ہے، جس سے جسم میں لچک پیدا ہوتی ہے اور خون کی روانی بہتر ہوتی ہے۔ انہوں نے عید کو بھائی چارے اور اتحاد کا پیغام دینے والا تہوار بھی قرار دیا تھا۔
ویڈیو کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی اور کئی صارفین نے ان کے بیان پر سوالات اٹھانے شروع کر دیے۔ بعض افراد نے ان پر جانبداری کا الزام لگایا اور سوریہ نمسکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی باتیں دوسرے مذاہب کے حوالے سے بھی کی جانی چاہئیں۔ کچھ ٹرولرز نے حد پار کرتے ہوئے نمیتا کے اہل خانہ اور بچوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جس پر کئی حلقوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس تنازعہ کے بعد جاری کیے گئے اپنے تازہ ویڈیو بیان میں نمیتا تھاپر نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص یا مذہب کی توہین برداشت کرنا درست نہیں ہے اور اس کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی ہندو مذہب، یوگا اور خاص طور پر سوریہ نمسکار کے فوائد پر ویڈیوز بنا چکی ہیں، لیکن اس وقت کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ ان کے مطابق موجودہ ردعمل دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔
نمیتا نے زور دے کر کہا کہ ہر مذہب کا احترام کرنا چاہیے اور معاشرے میں ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نفرت پر مبنی مواد سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلتا ہے، لیکن ہمیں مثبت سوچ اور باہمی احترام کو آگے بڑھانا چاہیے۔ اپنے پیغام میں انہوں نے ٹرولرز کو بھی تنبیہ کی کہ دوسروں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرنے کے نتائج ایک نہ ایک دن ضرور سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے “کرم” کے تصور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر انسان کو اپنے اعمال کا حساب دینا پڑتا ہے۔ آخر میں نمیتا تھاپر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صرف اپنی ذاتی سوچ تک محدود نہ رہیں بلکہ دوسروں کے عقائد اور روایات کا بھی احترام کریں۔ ان کے مطابق ایک مضبوط اور مہذب معاشرہ اسی وقت تشکیل پا سکتا ہے جب لوگ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو عزت دینا سیکھیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پی ٹی آئی کا ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان، عمران…
ایودھیا رام مندر میں چڑھاوا کی مبینہ چوری کی تحقیقات میں بڑا انکشاف، سالیسٹر جنرل…
پرینکا چترویدی نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا اپنا ذاتی وعدہ پورا، والدین…
اب ملزم کو گرفتاری کی وجہ تحریری طور پر بتانا لازمی، خلاف ورزی پر پولیس…
پنڈھری ناتھ علاقے میں بدریناتھ مندر اور تھانے کے سامنے پیش آیا واقعہ، کوئی جانی…
چنئی سپر کنگز کی جانب سے جاری بیان میں ظہیر خان نے کہا، ’’آئی پی…