انٹرٹینمنٹ

Mosquito saliva may help treat chikungunya: مچھر کی لار سے ہوگا چکن گونیا کا علاج، سنگاپور کے ریسرچرس کی نئی ریسرچ

نئی دہلی: چکن گونیا جیسی وائرل بیماریوں کے علاج اور روک تھام میں امید کی ایک نئی کرن سامنے آئی ہے۔ سنگاپور کے ریسرچرس نے ایک اہم دریافت کی ہے، جس کے مطابق مچھر کی لار میں موجود ایک خاص پروٹین انسانی جسم کے مدافعتی نظام (امیون سسٹم) پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔

جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع اس ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ ایڈیز مچھر کی لار میں پایا جانے والا ایک بایو ایکٹیو پیپٹائیڈ، جسے سیالوکینن (Sialokinin) کہا جاتا ہے، انسانی جسم کی چند خاص امیون خلیات (cells) سے جڑ جاتا ہے۔ یہ خلیات جسم میں انفیکشن کے خلاف ابتدائی دفاع میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

سنگاپور کے اے اسٹار انفیکشیس ڈیزیز لیبارٹری (A STAR IDL) کی ٹیم نے کہا کہ جب مچھر کاٹتا ہے تو اس کی لار کے ذریعے یہ سیالوکینن جسم میں داخل ہو جاتا ہے اور نیوروکینن ریسیپٹرز سے جڑ کر مونو سائیٹس نامی امیون خلیات کو متحرک ہونے سے روک دیتا ہے۔ اس عمل کے باعث جسم میں سوزش (inflammation) کی شروعاتی کیفیت کچھ دیر کے لیے سست پڑ جاتی ہے۔

ابتدائی سوزش کو روکنا بظاہر جسم کے لیے راحت بخش محسوس ہو سکتا ہے، مگر وائرس انفیکشن کے معاملے میں یہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ جب چکن گونیا وائرس جسم میں داخل ہوتا ہے تو اس سے لڑنے کے لیے امیون ردعمل (immune response) ضروری ہوتا ہے، لیکن سیالوکینن اس ردعمل کو سست کر دیتا ہے، جس سے وائرس کو جسم میں پھیلنے کا زیادہ موقع ملتا ہے اور علامات زیادہ سنگین ہو سکتی ہیں۔

ریسرچ میں یہ بھی پایا گیا کہ جن مریضوں میں چکن گونیا کی علامات زیادہ شدید تھیں، ان کے خون میں سیالوکینن کے خلاف اینٹی باڈیز (مدافعتی پروٹینز) کی مقدار زیادہ تھی۔

’اے اسٹار آئی ڈی ایل‘ کے سینئر سائنس دان اور ریسرچ کے مرکزی مصنف ڈاکٹر سیو وائی فنگ نے کہا کہ یہ مطالعہ اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ مچھر کی لار نہ صرف وائرس منتقل کرتی ہے بلکہ جسم کے مدافعتی ردعمل کو بھی متاثر کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں سیالوکینن یا اس کے ریسیپٹرز کو نشانہ بنا کر علاج تیار کیا جائے تو چکن گونیا اور دیگر مچھر سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

چکن گونیا ایک وائرل بیماری ہے جو ایڈیز مچھر کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ اس کے اہم علامات میں تیز بخار، جوڑوں میں سوجن اور طویل درد شامل ہیں۔ اکثر مریض مہینوں تک جوڑوں کے درد میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس لیے اگر مچھر کی لار میں موجود اجزاء کو بہتر طور پر سمجھ کر ان کے اثرات کو روکا جائے تو بیماری کی شدت کم کی جا سکتی ہے۔

یہ دریافت اس لیے بھی اہم ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مچھروں کی افزائش اور پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے یہ وائرس نئی جگہوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مچھر کی لار میں موجود خفیہ اجزاء کو شناخت کر کے انہیں بلاک کرنا آئندہ بیماریوں سے بچاؤ کا نیا راستہ ثابت ہو سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Iran shoots down US military drone: ایران کا بڑا دعویٰ، 24 گھنٹے میں آبنائے ہرمز میں 3 امریکی ڈرون مار گرائے

ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…

22 minutes ago

Sepehran Airlines Boeing 737: اڑان کے بعد طیارے کا ٹائر ہوا ٹائر ہوا الگ، مسافروں میں خوف و ہراس

شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…

1 hour ago

Mecca Drone Attack: مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا حوثی ڈرون، باغیوں نے مکہ پر حملے سے کیا انکار

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…

2 hours ago

Delhi Weather Today: دہلی-این سی آر میں آج بونداباندی کے امکانات، جانئے محکمہ موسمیات کا تازہ اپ ڈیٹ

آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…

2 hours ago