قومی

Ashok Gehlot with RJD top leadership: آرجےڈی قیادت سےاشوک گہلوت کی ملاقات، کہا— ’’انڈیا بلاک پوری طرح متحد‘‘

سینئر کانگریس لیڈر اشوک گہلوت نے بدھ کے روز کہا کہ انڈیا بلاک پوری طرح متحد ہے۔ یہ بیان انہوں نے آر جے ڈی کے سرپرست لالو پرساد یادو اور سابق نائب وزیراعلیٰ تیجسوی یادو سے ملاقات کے بعد دیا۔ ملاقات میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی (AICC) کے بہار انچارج کرشنا الاّوارو بھی موجود تھے۔ گہلوت نے اعلان کیا کہ مہاگٹھ بندھن کل ایک پریس کانفرنس کرے گا تاکہ اتحاد کی طاقت اور یکجہتی کو واضح کیا جا سکے۔

بی جے پی پر ’اسپانسرڈ مہم‘ کا الزام

اشوک گہلوت نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ بہار میں ایک ’’منصوبہ بند یا اسپانسرڈ مہم‘‘ چلا رہی ہے تاکہ یہ تاثر پیدا کیا جا سکے کہ انڈیا بلاک میں پھوٹ ہے۔ انہوں نے کہا: ’’آج AICC بہار انچارج شری کرشنا الاّوارو کے ساتھ لالو پرساد یادو اور تیجسوی یادو جی سے ملاقات ہوئی۔ بہار میں انڈیا اتحاد پوری طرح متحد ہے اور پوری طاقت کے ساتھ انتخابات لڑ رہا ہے۔ کل مہاگٹھ بندھن کی پریس کانفرنس میں تمام صورتحال واضح ہو جائے گی۔‘‘

دوستانہ مقابلے معمول کی بات — گہلوت

کچھ نشستوں پر اتحادی جماعتوں کے درمیان ’’دوستانہ مقابلے‘‘ کی خبروں پر گہلوت نے کہا کہ ایسی صورتحال کسی بھی بڑے اتحاد میں غیر معمولی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا: ’’243 نشستوں میں سے صرف 5 سے 7 پر مقامی رہنماؤں اور سیاسی مساوات کی وجہ سے دوستانہ مقابلہ ہو رہا ہے۔ یہ تعداد بہت معمولی ہے، لیکن میڈیا میں اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا حالانکہ حقیقت میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘‘ گہلوت نے مزید کہا کہ بہار کے لوگ تبدیلی چاہتے ہیں اور سمجھ چکے ہیں کہ ریاست میں انڈیا اتحاد کی جیت ریاست اور ملک کے مفاد میں ہے۔

این ڈی اے کی تنقید: چراغ پاسوان کا ردعمل

مہاگٹھ بندھن میں اندرونی اختلافات کی خبروں پر لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) کے لیڈر چراغ پاسوان نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد ’’پہلے ووٹ سے پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’مہاگٹھ بندھن کے اندرونی جھگڑوں سے صاف ظاہر ہے کہ اتحاد ختم ہو چکا ہے۔ اگر وہ اب بھی یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ اقتدار میں آئیں گے، تو یہ صرف ’منگیری لال کے سپنے‘ ہیں۔ آج آشوک گہلوت میڈیا سے مخاطب ہوئے، مگر اتنے دن کہاں تھے؟ راہل گاندھی کہاں ہیں؟ کیا سینئر لیڈروں کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ بیٹھ کر مسائل حل کریں؟ جو اتحاد اپنی پارٹیوں کو ایک نہیں رکھ سکتا، وہ 14 کروڑ عوام کو کیسے متحد رکھے گا؟‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بہار کے لوگ سمجھ چکے ہیں اور وہ ان کے ہاتھوں میں ریاست نہیں سونپیں گے۔ جیسا ہریانہ میں ان کا حال ہوا، ویسا ہی نتیجہ بہار میں بھی دیکھنے کو ملے گا۔‘‘ بہار اسمبلی انتخابات 6 اور 11 نومبر کو دو مرحلوں میں ہوں گے، جبکہ نتائج کا اعلان 14 نومبر کو کیا جائے گا۔

Habiburrahman

Recent Posts

Modi’s Focus on Water Education: پانی کے تحفظ پر مودی حکومت کا بڑا زور، اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوں گے آبی انتظام سے متعلق موضوعات

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…

3 hours ago

UDMA Day 2026: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اُڈما ڈے 2026 کا انعقاد 10 اکتوبر سے، یونانی طب، ادویہ سازی، تحقیق، تعلیم اور صحت سے وابستہ نمائندگان کی شرکت

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…

4 hours ago

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

4 hours ago