انٹرٹینمنٹ

Master Saleem: ماسٹر سلیم: والد کی ڈانٹ بنی زندگی کا سب سے بڑا سبق، کم عمری میں شروع کی سروں کی ریاضت، اس طرح بنے  دنیا کے ’ماسٹر سلیم‘

لکھنؤ میں منعقدہ ثقافتی پروگرام ’دیشج‘ کے دوران ماسٹر سلیم نے ایک یادگار واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ بچپن میں ایک اسٹیج پرفارمنس کے دوران ان کا سُر بگڑ گیا تھا، جس پر ان کے والد نے مجمع کے سامنے ہی انہیں ٹوک دیا۔ جب اگلی محفل میں بھی یہی غلطی دہرائی گئی تو والد نے سختی سے کہا کہ ’’صحیح گاؤ، ورنہ انجام اچھا نہیں ہوگا۔‘‘ ماسٹر سلیم آج اعتراف کرتے ہیں کہ والد کی یہی سخت تربیت اور ڈانٹ انہیں موسیقی کی بلندیوں تک لے گئی۔

بچپن ہی میں ملی ’ماسٹر‘ کی پہچان

13 جولائی 1980 کو پنجاب کے ضلع جالندھر کے شاہ کوٹ میں پیدا ہونے والے ماسٹر سلیم ایک موسیقی سے بھرپور گھرانے میں پروان چڑھے۔ ان کی والدہ ماتھرو نے ہمیشہ فن دوست ماحول فراہم کیا، جبکہ ان کے چھوٹے بھائی پرویز پیجی نے بھی گلوکاری کو اپنا پیشہ بنایا۔صرف سات برس کی عمر میں انہوں نے بٹھنڈہ دوردرشن کے افتتاحی پروگرام میں لوک گیت ’چرخے دی گھوک‘ پیش کیا، جس نے حاضرین کو بے حد متاثر کیا۔ ان کی غیر معمولی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے پنجاب کے موسیقی کے شائقین نے انہیں ’ماسٹر‘ کے خطاب سے نوازا۔ بعد ازاں 1990 میں، صرف دس سال کی عمر میں، ان کا پہلا باقاعدہ میوزک البم ’چرخے دی گھوک‘ جاری ہوا، جس نے انہیں قومی سطح پر ایک غیر معمولی کم عمر گلوکار کے طور پر شہرت دلائی۔

آواز بدلی، مگر حوصلہ نہیں ٹوٹا

1990 کی دہائی کے آخری برسوں میں جسمانی نشوونما کے باعث ماسٹر سلیم کی آواز میں تبدیلی آئی، جس سے ان کی مقبولیت متاثر ہوئی اور موسیقی کے کئی معاہدے ختم ہو گئے۔ موسیقی کے ماہرین کے مطابق یہ مرحلہ کسی بھی نوجوان گلوکار کے لیے انتہائی مشکل ہوتا ہے، لیکن ماسٹر سلیم نے اس آزمائش کو اپنی ریاضت کا حصہ بنا لیا۔سن 2000 میں انہوں نے دوردرشن کے نئے سال کے خصوصی پروگرام میں صوفی کلام ’اج ہونا دیدار ماہی دا‘ کے ذریعے نئی آواز کے ساتھ شاندار واپسی کی۔ اس کے بعد انہوں نے کئی روحانی اور عقیدتی البمز، جن میں ’میلہ مئیا دا‘ بھی شامل ہے، جاری کیے، جس سے ان کے کیریئر کو نئی سمت ملی۔

بالی ووڈ میں کامیابی اور آج کا سفر

ماسٹر سلیم کی بالی ووڈ میں انٹری بھی دلچسپ رہی۔ جالندھر کے تاریخی دیوی تالاب مندر میں ایک ماتا کے جاگرن کے دوران ان کی پرفارمنس ایک مذہبی ٹیلی ویژن چینل پر براہِ راست نشر ہو رہی تھی۔ یہ پروگرام معروف موسیقار شنکر مہادیون نے دیکھا اور ان کی آواز سے بے حد متاثر ہوئے۔ انہوں نے فوراً ماسٹر سلیم کو ممبئی بلایا اور 2007 میں فلم ’ہے بے بی‘ کے مقبول گیت ’مست قلندر‘ میں گانے کا موقع دیا۔اس کے بعد ماسٹر سلیم نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

7 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

8 hours ago