معروف فلم پروڈیوسر امت جانی نے سلمان خان کی قانونی ٹیم کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس پر کھل کر ردِعمل ظاہر کیا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ سوشل میڈیا، فون کالز، انسٹاگرام، فیس بک اور ذاتی پیغامات کے ذریعے انہیں مسلسل ڈرانے اور دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امت جانی کا کہنا تھا کہ اگر سلمان خان قانونی جنگ لڑنا چاہتے ہیں تو انہیں قانون کے دائرے میں رہ کر لڑنی چاہیے، نہ کہ دھمکیوں کے ذریعے۔
اپنے بیان میں امت جانی نے کیا کہا؟
اپنے بیان میں امت جانی نے کہا، ’’مجھے سلمان خان کی قانونی ٹیم کی جانب سے بھیجا گیا نوٹس موصول ہوا ہے اور اب میری قانونی ٹیم اس کا جائزہ لے گی۔ تاہم نوٹس ملنے کے بعد مجھے مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ مجھے قتل کرنے، ممبئی میں نہ رہنے دینے اور سنگین نتائج بھگتنے کی وارننگ دی جا رہی ہے۔ صرف 36 گھنٹوں کے اندر مجھے 10 ہزار سے زائد دھمکی آمیز پیغامات موصول ہو چکے ہیں۔‘‘امت جانی نے سلمان خان کے مداحوں اور لارنس بشنوئی کے حامیوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے فلم کا پوسٹر جاری کیا تھا تو لارنس بشنوئی کے حامیوں کی جانب سے بھی کئی فون کالز موصول ہوئی تھیں، لیکن ان کا رویہ شائستہ تھا اور کسی نے نازیبا زبان استعمال نہیں کی۔ ان کے مطابق موجودہ تنازع میں موصول ہونے والے پیغامات میں گالیاں اور دھمکیاں شامل ہیں، جبکہ بعض پیغامات مبینہ طور پر ڈی کمپنی کے نام سے بھیجے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہی حالات کے باعث انہوں نے سلمان خان کی قانونی ٹیم کا نوٹس پھاڑ دیا۔
’’نوٹس کو پھاڑنا دراصل میرا جواب ہے‘‘
امت جانی نے مزید کہا، ’’نوٹس کو پھاڑنا دراصل میرا جواب ہے۔ مجھے بھارت کے قانونی نظام پر مکمل اعتماد ہے اور میں کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے آگے جھکنے والا نہیں ہوں۔ میری ٹیم جلد ہی فلم کا ٹیزر جاری کرے گی اور نوٹس میں جن مناظر یا مواد کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، ان میں سے کچھ بھی نہیں ہٹایا گیا ہے۔‘‘واضح رہے کہ یہ تنازع فلم ’کالا ہرن‘ کے گرد گھوم رہا ہے، جو مبینہ طور پر 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس اور اس سے جڑے واقعات پر مبنی ہے۔ پوسٹر جاری ہونے کے بعد یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ فلم میں سلمان خان اور بشنوئی سماج سے متعلق تنازع کو بھی دکھایا جائے گا۔ اس کے بعد سلمان خان کی قانونی ٹیم نے فلم سازوں کو نوٹس جاری کیا۔
سلمان خان کی قانونی ٹیم کا مؤقف
سلمان خان کی قانونی ٹیم کا مؤقف ہے کہ یہ فلم ان کے ذاتی حقوق اور ساکھ کو متاثر کر سکتی ہے۔ مزید یہ کہ کالا ہرن شکار کیس اب بھی راجستھان ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے اس موضوع پر فلم بنانا اور اس کی تشہیر قانونی طور پر حساس معاملہ ہو سکتا ہے۔ نوٹس میں فلم کی تیاری اور تشہیری سرگرمیوں پر روک لگانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نورا فتحی نے اپنے ابتدائی کیریئر کے دنوں کا دلچسپ راز کیا فاش، بتایا کہ…
بگ باس کے حالیہ ایپی سوڈ میں سلمان خان کو سینے کے قریب درد سے…
ایشین گیمز 2026 میں بھارت کا پہلا تمغہ سُچیکا تاریال نے یقینی بنایا۔ 36 سالہ…
پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران…
بھارت اور اٹلی اپنے خصوصی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے دائرہ کار کو وسیع کر رہے ہیں۔…
بھارتی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر اجیت اگرکر نے تقریباً 3 سال کے کامیاب دور…