بھارتی سنیما کے لیے سال 2026 کی شروعات کسی سنہرے خواب سے کم نہیں رہی۔ لندن میں منعقد ہونے والے بی اے ایف ٹی اے ایوارڈز میں مانی پور کی ایک چھوٹی سی فلم نے وہ کر دکھایا جس کی کسی نے توقع نہیں کی تھی۔ فرحان اختر کی ایکسل انٹرٹینمنٹ کے بینر تلے بنائی گئی اس فلم نے بیسٹ چلڈرن اینڈ فیملی کا ایوارڈ جیت کر پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مرکوز کر لی ہے۔
ہالی وڈ کی بڑی فلموں کو پیچھے چھوڑا
لندن کے رائل فیسٹیول ہال میں جب ’بوٗنگ‘ کا نام فاتح کے طور پر لیا گیا تو یہ صرف ایک فلم کی جیت نہیں تھی بلکہ بھارت کے علاقائی سنیما کی جیت تھی۔ اس فلم نے ’لیلوا اینڈ اسٹچ‘ اور ’جوٹروپولیس 2‘ جیسی ہالی وڈ کی بڑی پروجیکٹس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے یہ اعزاز اپنے نام کیا۔ فلم کی ہدایتکارہ لکشمی پریا دیوی جب اسٹیج پر ٹرافی لینے آئیں تو ان کے ساتھ فرحان اختر بھی موجود تھے۔
ایوارڈ وصول کرتے وقت لکشمی پریا کافی جذباتی نظر آئیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں نہ صرف اس اعزاز کے لیے شکریہ ادا کیا بلکہ مانی پور کے موجودہ حالات پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا، “یہ فلم میرے ہوم ٹاؤن مانی پور کو ایک خراجِ تحسین ہے، جسے اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ میں اس اسٹیج سے اپنے ریاست میں امن کی واپسی کے لیے دعا کرتی ہوں۔” ان کی سادگی اور حساسیت نے وہاں موجود ہر شخص کے دل کو جیت لیا۔
’بوٗنگ‘ کی کہانی کیا ہے؟
یہ فلم مانی پور کی سرحدی علاقے میں رہنے والے ایک اسکول بچے کی کہانی بیان کرتی ہے، جو نسلی تنازعات اور تشدد کے درمیان پروان چڑھا ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ ایک چھوٹا بچہ کس طرح اپنے بکھرے ہوئے خاندان کو جوڑنے اور اپنے لاپتہ والد کو واپس لانے کی جدوجہد کرتا ہے۔ گوگون کیپگن اور بالا ہزام کے اداکاری سے مزین یہ فلم سماجی اور سیاسی افراتفری کو بڑی باریکی سے پردے پر پیش کرتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اس پہل کا آغاز اس مقصد سے کیا گیا کہ پی او پی سے بنی…
وائرل ویڈیو میں خاتون سیٹی گنڈکی ندی پر بنے ایک پل پر کھڑی نظر آ…
گنیش مورتیوں کے وسرجن پر سختی کی ایک بڑی وجہ ان کی تیاری اور سجاوٹ…
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شہری نے بتایا…
رپورٹس کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران قطر کے رابطے میں ہے اور…
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اندرونی تنازع پر جیتن رام مانجھی نے کہا کہ…