لکھنو: رمضان کے مہینے میں لکھنو یونیورسٹی کے کیمپس میں نماز پڑھنے کے معاملے پر پولیس اور انتظامیہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی ہے۔ لکھنو یونیورسٹی کے کیمپس میں واقع لال بارادری میں نماز کے واقعے کے بعد انتظامیہ نے سخت کارروائی کرتے ہوئے 13 طلبہ کو نوٹس جاری کیا ہے۔
اسسٹنٹ پولیس کمشنر/ایگزیکٹو مجسٹریٹ، مہانگر کمشنریٹ لکھنو کی جانب سے دَنڈ پروسیجر کوڈ کی شق 126/135 کے تحت جاری نوٹس میں الزام لگایا گیا ہے کہ مذکورہ طلبہ نے یونیورسٹی کیمپس میں لال بارادری کے قریب جاری تعمیراتی کام میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ وہ کیفے ٹیریا کے سامنے سڑک پر بیٹھ کر نعرے بازی اور احتجاج میں شامل ہوئے، اور عوامی جگہ پر نماز پڑھنے کی کوشش کی، جس سے امن و امان خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔
یونیورسٹی کے کیمپس میں ہوئی کشیدگی
حسن گنج پولیس اسٹیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر جاری حکم میں کہا گیا کہ ان سرگرمیوں کی وجہ سے یونیورسٹی کے کیمپس میں کشیدگی پیدا ہوئی اور مستقبل میں عوامی امن و امان خراب ہونے کے امکانات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اسی بنیاد پر ایگزیکٹو مجسٹریٹ نے تمام 13 طلبہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک سال تک امن اور قانون و ضابطہ قائم رکھنے کی ضمانت کے طور پر 50 ہزار روپے کا ذاتی مچلکہ اور دو دو ضمانت گزار کے طور پر 50-50 ہزار روپے پیش کریں۔
کیمپس کی لال بارادری کا ویڈیو ہوا وائرل
لکھنو یونیورسٹی کے کیمپس کی لال بارادری کا ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا، جس میں ہندو طلبہ نے چین بنا کر مسلم طلبہ کو نماز پڑھنے میں مدد کی تھی۔ پیر کے روز طلبہ کے دوسرے گروپ نے اس کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ الزام ہے کہ لال بارادری میں رینوویشن کا کام جاری تھا، لیکن طلبہ نماز ادا کرنے پہنچ گئے۔ جب طلبہ کو نماز پڑھنے سے روکا گیا، تو ہندو طلبہ نے بیری کیٹنگ گرا دی اور انسانی چین بنا کر کھڑے ہو گئے۔ اس کے بعد طلبہ نے نماز ادا کی اور روزہ کھولا۔
بھارت ایکسپریس۔
امریکی سفارت خانے نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب…
وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پائل مہتا کے انتقال پر…
اس پہل کا آغاز اس مقصد سے کیا گیا کہ پی او پی سے بنی…
وائرل ویڈیو میں خاتون سیٹی گنڈکی ندی پر بنے ایک پل پر کھڑی نظر آ…
گنیش مورتیوں کے وسرجن پر سختی کی ایک بڑی وجہ ان کی تیاری اور سجاوٹ…
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شہری نے بتایا…