Categories: Uncategorized

‘Swadeshi’ enters classrooms as NCERT ties it to PM’s initiatives: سودیشی تعلیمی نصاب میں شامل، این سی ای آر ٹی نے اسے پی ایم کے منصوبوں سے جوڑا

ملک کی سرکاری تعلیمی کونسل این سی ای آر ٹی نے سودیشی  کے موضوع پر خاص کلاس روم ماڈیولز جاری کیے ہیں، جو 1905 میں بنگال کی تقسیم کے خلاف تحریک سے لے کر آج کےپی ایم  نریندر مودی کے ‘آتم نربھر بھارت’ کے ویژن تک کے سفر کو بیان کرتے ہیں۔

این سی ای آر ٹی کی نئی اشاعتیں، “سودیشی : مقامی کی حمایت” (مڈل اسٹيج کے لیے) اور “سودیشی خود مختار بھارت کے لیے” (سیکنڈری اسٹيج کے لیے)، تاریخی تحریک کو اجاگر کرتی ہیں جس نے انگریز کی درآمدی اشیاء کا بائیکاٹ کر کے ملکی صنعتوں کو فروغ دیا۔ یہ ماڈیولز موجودہ حکومت کے پروگرامز جیسے ‘میک ان انڈیا،’ ‘اسٹارٹ اپ انڈیا،’ ‘ڈیجیٹل انڈیا،’ ‘ووکال فار لوکل،’ اور ‘آتم نربھر بھارت’ سے بھی اس تحریک کو مربوط کرتے ہیں۔

ماڈیولز میں اس سال کے یوم آزادی کے پی ایم مودی کے خطاب کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں انہوں نے ‘آتم نربھر بھارت’ کو ترقی یافتہ بھارت کی بنیاد قرار دیا۔ اس کے علاوہ، وہ پی ایم مودی کی حالیہ ملاقاتوں کا بھی ذکر ہے جہاں انہوں نے قومی ایوارڈ یافتہ اساتذہ سے کہا کہ اساتذہ عموماً طلباء کو ہوم ورک دیتے ہیں، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ اس بار طلباء اساتذہ کو “ایک ہوم ورک” دیں، یعنی ‘سودیشی’ مصنوعات کو فروغ دینے کی مہم چلائیں، جو ‘میک ان انڈیا’ اور ‘ووکال فار لوکل’ کے تصور سے ہم آہنگ ہو۔

یہ ماڈیولز وضاحت کرتے ہیں کہ ‘سودیشی ’ تحریک 1905 میں شروع ہوئی جب برطانوی حکمرانوں نے بنگال کی تقسیم کی، اور یہ صرف بائیکاٹ کا نام نہیں تھا بلکہ اس تحریک نے ہندوستانی متبادل مصنوعات اور ادارے بھی قائم کیے، جیسے بنگال کیمیکل اینڈ فارماسوٹیکل ورکس (1901، پرفل چندر رائے) اور ٹاٹا آئرن اینڈ اسٹیل کمپنی (1907، جمسیٹی ٹاٹا)۔

“1905 میں، یہ تحریک نوآبادیاتی استحصال کے خلاف لڑائی کو تقویت دیتی تھی۔ آج، 2025 میں، یہ ہمیں عالمی دور میں خود انحصاری کی طرف لے جا رہی ہے، جہاں ٹیکنالوجی کی تیزی سے ترقی ہو رہی ہے،” ماڈیولز میں کہا گیا ہے۔ نصاب میں تحقیق پر مبنی جدت اور ملک میں سیمی کنڈکٹرز، قابل تجدید توانائی، زرعی شعبے اور مصنوعی ذہانت (AI) جیسے اہم شعبوں میں مضبوط صنعتوں کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

خاص بات یہ ہے کہ نصاب میں مصنوعی ذہانت کو جدید ‘سودیشی’ تحریک کے مرکز میں رکھا گیا ہے، جو اس تصور کو ماضی کی یادگار سے آگے بڑھا کر مستقبل کے لیے ایک فریم ورک بنا دیتا ہے۔

این سی ای آر ٹی نے واضح کیا ہے کہ آج کا ‘سودیشی’ صرف ایک تاریخی تحریک نہیں بلکہ ایک ایسا ماڈل ہے جو بھارت کو عالمی غیر یقینی حالات میں استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد دے گا، اور ملک کو ایک عالمی معیشتی طاقت کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت فراہم کرے گا۔

یہ تعلیمی ماڈیولز نہ صرف طلباء میں ملک پرستی اور خود انحصاری کے جذبے کو پروان چڑھائیں گے بلکہ انہیں تحقیق، جدت اور ملکی صنعتوں کی ترقی کے لیے بھی متحرک کریں گے۔ اس طرح ‘سودیشی’ تحریک ایک نئی زندگی حاصل کر کے بھارت کے مستقبل کے لیے امید کی کرن بن گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Suchika Tariyal: کون ہیں بھارت کی ایم ایم اے کوئین سُچیکا تاریال؟ جنہوں نے ایشیائی کھیلوں میں پکا کیا ملک کا پہلا تمغہ

ایشین گیمز 2026 میں بھارت کا پہلا تمغہ سُچیکا تاریال نے یقینی بنایا۔ 36 سالہ…

15 seconds ago

Imran Khan’s Sister Arrested: پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان گرفتار، 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے قبل کارروائی

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران…

9 minutes ago

India-Italy partnership: تجارت، دفاع اور کنیکٹیویٹی پر بھارت اور اٹلی کی شراکت داری مزید مضبوط، 20 ارب یورو کے تجارتی ہدف کی جانب پیش قدمی

بھارت اور اٹلی اپنے خصوصی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے دائرہ کار کو وسیع کر رہے ہیں۔…

36 minutes ago

Ajit Agarkar Resignation BCCI Selection: ٹرافیوں کی بھرمار کے باوجود بی سی سی آئی سے کنارہ، اگرکر کے استعفے کی 3 بڑی وجوہات

بھارتی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر اجیت اگرکر نے تقریباً 3 سال کے کامیاب دور…

36 minutes ago

Global Warming: کہیں خشک سالی تو کہیں سیلاب! فضا میں بڑھتی CO2 سے زمین کا دم گھٹنے لگا، سائنسدانوں نے کیا خبردار

فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی مقدار موسم، گرمی، پانی، زراعت اور آنے والے…

1 hour ago