تصویر: اے این آئی
وقف ترمیمی بل کو لوک سبھا سے منظوری ملنے کے بعد آج راجیہ سبھا میں پیش کر دیا گیا ہے اور اس پر بحث جاری ہے۔ اس دوران ڈی ایم کے (DMK) کے ممبران پارلیمنٹ نے اس بل کو ’’ڈراکونین‘‘ قرار دیا ہے۔ ڈی ایم کے ممبران پارلیمنٹ اپنے احتجاج کو مزید تقویت دیتے ہوئے راجیہ سبھا میں کالی شرٹ پہن کر شرکت کر رہے ہیں، جو اس بات کا مظہر ہے کہ وہ اسے کالا قانون مانتے ہیں۔
تمل ناڈو اسمبلی میں کالی پٹی باندھ کر شریک ہو رہے ہیں ڈی ایم کے ایم ایل ایز
دریں اثنا ڈی ایم کے سربراہ اور تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے اس بل کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ریاستی اسمبلی میں ڈی ایم کے کے تمام ایم ایل ایز نے سیاہ پٹی باندھ کر احتجاج درج کر رہے ہیں۔ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم اسٹالن نے کہا ’’27 مارچ کو بی جے پی ممبران کے علاوہ ہم سب نے متفقہ طور پر وقف ترمیمی بل کے خلاف ایک قرارداد منظور کی ہے، جو کہ ہندوستانی قوم کی سالمیت اور اقلیتوں کے خلاف ہے۔‘‘
اسٹالن نے مزید کہا کہ ’’بھارت کی زیادہ تر سیاسی جماعتوں نے اس بل کی مخالفت کی ہے۔ یہ انتہائی قابل مذمت ہے کہ یہ بل بہت زیادہ مخالفت کے باوجود پارلیمنٹ میں منظور کر لیا گیا۔ 232 اراکین پارلیمنٹ نے اس کی مخالفت میں اور 288 اراکین نے اس کے حق میں ووٹ دیا، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ اس کے پاس ہونے کے باوجود اس کے مخالفین کی تعداد 232۔‘‘ انھوں نے کہا ’’اکثریتی سیاسی جماعتوں کی مخالفت کے باوجود، کچھ اتحادی جماعتوں کی مدد سے رات کے دو بجے تک بل کو منظور کرنا ہندوستانی جمہوریت کے خلاف ہے۔۔ اسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے آج ہم سیاہ بیج پہن کر اسمبلی اجلاس میں آئے۔ ڈی ایم کے کی طرف سے ہم اس وقف ترمیمی بل کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
مرکزی وزیر مملکت رام داس اٹھاولے نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد پر…
یہ میٹنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب منی پور میں مختلف برادریوں سے تعلق…
انوج ٹھاکر نے 27 اکتوبر 2026 کو آخری سانس لی۔ قریبی دوست روپیش سونار کے…
یادداشت پر دستخط کرنے والے اراکین اسمبلی نے عوامی توقعات اور حکومت کے درمیان بڑھتی…
بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ون ڈے 4 نومبر کو آکلینڈ کے ایڈن…
جسٹس ایم ایم سندریش اورجسٹس پرسنّا بی ورالے کی بنچ نے 29 اکتوبر کے اپنے…