Categories: Uncategorized

CCI closes case against Adani: سی سی آئی نے اڈانی کے خلاف کیس بند کر دیا، کہا پاور جنریشن مارکیٹ میں غالب کھلاڑی نہیں

نئی دہلی :کمپٹیشن کمیشن آف انڈیا نے جمعرات کو اڈانی گروپ سے متعلق بولی میں گڑبڑی اور مارکیٹ میں غلبے کے غلط استعمال کے الزامات والے کیس کو بند کر دیا۔ کمیشن نے کہا کہ اڈانی گروپ بھارت کی پاور جنریشن مارکیٹ میں غالب کھلاڑی نہیں ہے اور الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔یہ معاملہ روی شرما کی جانب سے دائر درخواست کے بعد سامنے آیا تھا، جس میں اڈانی انٹرپرائزز، اڈانی گرین انرجی، ایزور پاور اور سولر انرجی کارپوریشن آف انڈیا سمیت دیگر اداروں پر الزامات عائد کیے گئے تھے۔چیئرپرسن رونیت کور اور اراکین انیل اگروال، شویتا ککڑ اور دیپک انوراگ پر مشتمل بنچ نے معاملے کی ابتدائی جانچ کے بعد باضابطہ تحقیقات کا حکم دینے سے انکار کر دیا۔

درخواست گزار نے الزام لگایا تھا کہ سال 2019 میں SECI کی جانب سے 7 گیگاواٹ کے سولر پاور منصوبوں کے لیے جاری ٹینڈر کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا تھا کہ اس کا فائدہ بڑے کھلاڑیوں، خاص طور پر اڈانی گروپ اور ایزور پاور کو ہو۔ درخواست گزار کے مطابق ٹینڈر کی شرائط جیسے “گرین شو آپشن” اور غیر مختص صلاحیت کی منتقلی نے چھوٹے کھلاڑیوں کو باہر کر دیا اور بڑے اداروں کو فائدہ پہنچایا۔یہ بھی الزام لگایا گیا کہ ایزور پاور کو دی گئی کچھ منصوبہ جاتی صلاحیت بعد میں اڈانی گرین انرجی کو منتقل کی گئی، جس سے پہلے سے طے شدہ نتیجے کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔ درخواست گزار نے امریکی فردِ جرم کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اڈانی حکام نے مبینہ طور پر منافع بخش معاہدوں کے لیے رشوت دی۔

سی سی آئی نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ کمیشن نے کہا کہ درخواست گزار کوئی ایسا ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ،جس سے ثابت ہو کہ ایزور پاور نے پراکسی بولی دہندہ کے طور پر کام کیا یا بولی کے عمل میں ہیرا پھیری کی گئی۔کمیشن نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی پاور جنریشن مارکیٹ میں کئی بڑے ادارے موجود ہیں، جن میں این ٹی پی سی، پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا، ٹاٹا پاور، ٹورینٹ پاور اور ریلائنس پاور شامل ہیں۔ ایسے میں اڈانی گروپ کو غالب کھلاڑی نہیں کہا جا سکتا۔کمیشن نے مزید واضح کیا کہ پیمانے کی معیشت یا سرمایہ تک رسائی جیسے گروپ فوائد کو غلبے کے غلط استعمال کا ثبوت نہیں مانا جا سکتا۔ ساتھ ہی کمیشن نے کہا کہ رشوت یا بدعنوانی جیسے الزامات، اگر درست بھی ہوں، تو وہ مسابقتی قانون کے دائرے میں غلبے کے غلط استعمال کے زمرے میں نہیں آتے۔کمپٹیشن ایکٹ کی دفعہ 3 اور 4 کی خلاف ورزی کا کوئی ثبوت نہ ملنے پر کمیشن نے ابتدائی مرحلے میں ہی معاملہ بند کر دیا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Asian Games: شیفالی ورما کی پہلی ٹی20 سنچری، بھارت نے بنگلہ دیش کو 196 رنز کا دیا ہدف

بھارتی ٹیم نے 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 195 رنز بنائے اور…

23 minutes ago

Soundarya Rajinikanth: سپر اسٹار رجنی کانت کی بیٹی سوندریا نے اداکاری کے بجائے گرافک ڈیزائنر کے طور پر شروع کیا کیریئر

سوندریا نے 2010 میں فلم ’گوا‘ کے ذریعے بطور پروڈیوسر اپنے فلمی کیریئر کا آغاز…

46 minutes ago

Road Accident: ممبئی میں خوفناک سڑک حادثہ، پل سے گری تیز رفتار کار، 3 افراد ہلاک، ایک کی حالت تشویشناک

بی ایم سی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نائر اسپتال کے چیف میڈیکل…

1 hour ago

Nawada School Viral Video: نوادہ میں طالبات نے ہیڈ ماسٹر پر لگائے سنگین الزامات، چھیڑ چھاڑ اور پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج

آٹھویں جماعت کی ایک طالبہ نے الزام لگایا کہ جمعہ کو وہ امتحان کے لیے…

2 hours ago

Trump Returns Unexpectedly to White House: اچانک وائٹ ہاؤس واپس لوٹے ٹرمپ، خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملوں کا الرٹ، ایڈوائزری جاری

امریکی سفارت خانے نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب…

2 hours ago