Uncategorized

Adani Green Energy Gallery attracts 7 lakh visitors: قابل تجدید توانائی کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹا جا سکتا ہے اور دنیا کو توانائی کے زیادہ پائیدار استعمال کی طرف لے جایا جا سکتا ہے

دی اڈانی گرین انرجی گیلری‘،  نے جو کہ لندن کے سائنس میوزیم میں نصب ہے اپنے پہلے سال میں 7 لاکھ سے زیادہ زائرین کو راغب کیا۔ اس گیلری کا مقصد قابل تجدید توانائی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے درکار ٹیکنالوجیز کی نمائش کرنا ہے۔ اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ (AGEL) کے زیر اہتمام اور سائنس میوزیم کے ذریعہ تیار کردہ، گیلری کا افتتاح 26 مارچ 2024 کو اڈانی گرین انرجی کے چیئرمین گوتم اڈانی نے کیا تھا۔

موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق بیداری پیدا کرنے کے لیے منعقد کیے گئے ٹور

اس گیلری میں داخلہ مفت ہے، یہ گیلری ہمیں راغب کرتا ہے کہ کس طرح قابل تجدید توانائی کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹا جا سکتا ہے اور دنیا کو توانائی کے زیادہ پائیدار استعمال کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔ یہ گیلری اس بات کی کھوج کرتی ہے کہ دنیا کس طرح توانائی پیدا کر سکتی ہے اور اسے ماحولیاتی تبدیلیوں کو محدود کرنے کے لیے زیادہ پائیدار طریقوں سے استعمال کر سکتی ہے۔

پچھلے ایک سال کے دوران، گیلری نے 40 سے زیادہ ٹور کا اہتمام کیا ہے، جس میں کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی، میٹ آفس، ورلڈ انرجی کونسل، یونیورس سائنس اور برطانیہ کے متعدد سرکاری محکموں کے ارکان شامل ہیں۔ ان میں توانائی کی منتقلی اور decarbonization کی ضرورت کے سے متعلق غوروخوض کیا گیا ہے۔

گیلری کو باوقار BRIC ایوارڈز 2024 میں اختراع کے زمرے میں ایک ایوارڈ ملا ہے۔ گیلری میں 100 فیصد ہائیڈروجن سے چلنے والی اینٹوں سے بنا ایک منفرد بینچ دکھایا گیا ہے، جو دنیا کا پہلا بینچ ہے۔ یہ بینچ اور اس کا مواد یہ ظاہر کرتا ہے کہ کم کاربن کی اینٹیں کیسے بنائی جا سکتی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ اینٹ قدرتی گیس کے مقابلے میں 81 سے 84 فیصد کم کاربن خارج کرتی ہے۔

اس گیلری میں ایک منفرد ڈی کاربونائزیشن ٹریکر بھی موجود ہے، جو برطانیہ کی بجلی کی فراہمی کی کاربن کی شدت کو ٹریک کرتا ہے۔ ٹریکر سے پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ نے 2024 میں فی کلو گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) کے اخراج میں کمی درج کی ہے۔ یہ ٹریکر 2035 تک برطانیہ کے CO2 کے اخراج کو ٹریک کرے گا۔

پائیدار ڈیزائن: پرانے مواد کا دوبارہ استعمال اور ماحولیاتی ذمہ داری

گیلری کو ایوارڈ یافتہ آرکیٹیکٹس، Unknown Works نے ڈیزائن کیا ہے۔ گیلری کے پائیدار ڈیزائن کا ایک اہم عنصر سائنس میوزیم کے پرانے آبجیکٹ اسٹور سے غیر استعمال شدہ شیلفوں کا دوبارہ استعمال تھا۔ گیلری کے کاربن فوٹ پرنٹ کی بھی نگرانی کی گئی ہے اور جہاں بھی ممکن ہوا ایلومینیم کو ری سائیکل کیا گیا ہے۔

اڈانی گرین انرجی کا تعاون: قابل تجدید توانائی میں ایک عالمی کوشش

اڈانی گرین انرجی کے بارے میں بات کرتے ہوئے، گیلری نے کہا، “ہماری کمپنی 13 گیگا واٹ سے زیادہ کے آپریشنل پورٹ فولیو کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی قابل تجدید توانائی کمپنیوں میں سے ایک ہے، جو ہوا، شمسی  توانائی اور ہائبرڈ کا مرکب ہے، ہم قابل تجدید توانائی کے لیے پرعزم ہیں۔”

بھارت ایکسپریس۔

Habiburrahman

Recent Posts

Prime Minister Narendra Modi: وزیر اعظم مودی نے مہابھارت کا خاص شلوک کیا شیئر، بتایا زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کا منتر

تپسیا کا مطلب: اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل محنت کرنا، مشکلات کا…

51 minutes ago

Delhi-NCR Air Pollution: دہلی-این سی آر میں آلودگی کا قہر، کئی علاقوں میں اے کیو آئی 400 سے تجاوز، جہانگیرپوری میں 499 ریکارڈ

دہلی کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 331 درج کیا گیا، بگڑتے حالات کے پیش نظر…

54 minutes ago

دہلی-این سی آرمیں کھلے عام فروخت ہورہے ہیں پٹاخے؟ سپریم کورٹ نے حکومت سے پوچھا سخت سوال

جسٹس ایم ایم سندریش نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) ایشوریہ بھاٹی سے اخبار…

1 hour ago