نیدر لینڈ نے جنوبی افریقہ کو شکست دے کر ورلڈ کپ کا بڑھایا جوش، اب آسان نہیں ہوگی سیمی فائنل کی دوڑ
SA vs NED: کل رات (17 اکتوبر) ورلڈ کپ 2023 میں بڑا الٹ پھیر ہوا۔ نیدر لینڈ کی ٹیم نے جنوبی افریقہ کو 38 رنز سے شکست دے دی۔ یہ اس ورلڈ کپ کا دوسرا الٹ پھیر تھا۔ اس سے قبل افغانستان نے 15 اکتوبر کو کھیلے گئے میچ میں انگلینڈ کو شکست دی تھی۔ ان دونوں میچوں نے اچانک ورلڈ کپ کے لئے لوگوں کا جوش بڑھا دیا جو سرد انداز میں آگے بڑھ رہا تھا۔ ان دونوں میچوں کے نتائج نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ کرکٹ کے کھیل میں کوئی ٹیم بڑی یا چھوٹی نہیں ہوتی۔
انگلینڈ کے خلاف افغانستان کی جیت کا شور ابھی تھما بھی نہیں تھا کہ نیدرلینڈ کی جنوبی افریقہ کے خلاف فتح نے ورلڈ کپ میں جوش و خروش پیدا کر دیا ہے۔ اب ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کی دوڑ آسان نہیں ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان اور نیدرلینڈ دو ایسی ٹیمیں ہیں جو ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والی نو بڑی ٹیموں کے خلاف بہت کم میچ کھیل پاتی ہیں۔ یہ دونوں ٹیمیں اس ورلڈ کپ کی کمزور ترین ٹیمیں بھی ہیں۔ آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں ان کی پوزیشنیں بالترتیب نویں اور چودھویں ہیں۔
ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں یہ ٹیمیں پہلے ہی الٹ پھیر کا باعث بنی ہیں حالانکہ جیسے جیسے کرکٹ کا فارمیٹ بڑا ہوتا جاتا ہے چھوٹی ٹیموں کے لیے بڑی ٹیموں پر فتح حاصل کرنا مشکل ہوتا جاتا ہےا لیکن افغانستان اور پھر نیدر لینڈ نے تین دن کے اندر دو الٹ پھیر کرکے تمام قیاس آرائیوں پر پانی پھیر دیا۔ اس بار پھر انگلینڈ کو ورلڈ کپ کی فیورٹ ٹیم قرار دیا جا رہا تھا لیکن افغانستان نے انہیں آئینہ دکھا دیا۔ اس کے بعد اس ورلڈ کپ میں یکطرفہ میچ جیتنے والی جنوبی افریقہ کی دفاعی چیمپئن نیدرلینڈ نے ایسا تہلکہ مچا دیا ہے کہ اس کے لیے اعتماد بحال کرنا آسان نہیں ہوگا۔
سیمی فائنل کا حساب بگاڑ سکتی ہیں نیدرلینڈ اور افغانستان
ورلڈ کپ 2023 میں تمام ٹیمیں اب تک 3-3 میچز کھیل چکی ہیں۔ ان میں سے 9 ٹیموں نے کم از کم ایک جیت حاصل کی ہے۔ یعنی کسی بھی ٹیم کو سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس دوڑ میں اگر سری لنکا، نیدرلینڈ یا افغانستان بھی پیچھے رہ جاتے ہیں، تب بھی ان ٹیموں نے اپنے کھیل سے اب تک یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اس ٹورنامنٹ میں ایک دو اور الت پھیر کر کے دوسری ٹیموں کا حساب ضرور خراب کر سکتی ہیں۔
کیسا رہا میچ حال؟
اس میچ میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے نیدرلینڈ نے ایک وقت میں صرف 112 رنز کے مجموعی اسکور پر 6 وکٹیں گنوا دی تھیں۔ لیکن یہاں سے اسکاٹ ایڈورڈز نے کپتانی کی اننگز کھیلی اور نچلی سطح کے بلے بازوں کے ساتھ مل کر نیدرلینڈ کو مقررہ 43 اوورز میں 245 رنز تک پہنچایا۔ اس کے بعد باقی کام ڈچ گیند بازوں نے کیا۔ نیدرلینڈ نے شروع سے ہی سخت گیند بازی کی اور وقفے وقفے سے وکٹیں حاصل کرتے رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پروٹیز ٹیم 207 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔
-بھارت ایکسپریس
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…