اسپورٹس

IRS OFFICER EKTA BISHNOI WINS 3 GOLD Medals: امریکہ میں ہندوستان کا پرچم بلند، آئی آر ایس افسر ایکتا بشنوئی نے 362.5 کلوگرام وزن اٹھا کر جیتے 3 طلائی تمغے

رینو، امریکہ (18 اکتوبر 2026): ہندوستانی انتظامی خدمات کے افسران کی صلاحیتیں صرف پالیسی سازی اور دفتری ذمہ داریوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ وہ بین الاقوامی کھیلوں کے میدان میں بھی ملک کا پرچم بلند کر رہے ہیں۔ ہندوستانی ریونیو سروس (آئی آر ایس) کی سینئر افسر ایکتا بشنوئی نے امریکہ کے شہر رینو میں منعقدہ ’عالمی ماسٹرز کلاسک پاور لفٹنگ چیمپئن شپ‘ میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 3 طلائی تمغے جیت کر تاریخ رقم کی۔ مقابلے کے دوران ایکتا نے غیر معمولی جسمانی صلاحیت اور ذہنی مضبوطی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 362.5 کلوگرام وزن اٹھایا۔ انہوں نے جاپان اور کینیڈا جیسے پاور لفٹنگ کے مضبوط حریفوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے طلائی تمغوں پر قبضہ جمایا۔ اس تاریخی کامیابی کے ساتھ وہ ماسٹرز-2 زمرے میں عالمی چیمپئن شپ کا طلائی تمغہ جیتنے والی پہلی ہندوستانی خاتون پاور لفٹر بن گئیں۔

کوچ کا ویزا منسوخ، ویڈیو کال کے ذریعے بنائی حکمت عملی

ایکتا کی اس کامیابی کو اس لیے بھی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ایک سینئر آئی آر ایس افسر کی حیثیت سے سرکاری ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ اس مشکل کھیل کے لیے بھی کئی گھنٹے سخت محنت کی۔ مقابلے کے لیے روانگی سے ٹھیک پہلے ہندوستانی ٹیم کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا جب ایکتا کے ذاتی کوچ سنیل کمار کا امریکی ویزا تکنیکی وجوہات کی بنا پر مسترد ہو گیا۔ اس غیر متوقع صورت حال کے باوجود ایکتا نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے امریکہ میں موجود ٹیم افسر بینو ابراہیم کے تعاون اور ہندوستان میں موجود اپنے کوچ سنیل کمار سے ویڈیو کال کے ذریعے مسلسل تکنیکی رہنمائی حاصل کی۔ اس طرح انہوں نے مقابلے کے ہر مرحلے میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

سائنسی حکمت عملی اور فیصلہ کن برتری

کامیابی کی حکمت عملی کے بارے میں نئی دہلی کے نیتاجی جم میں ایکتا کو تربیت دینے والے کوچ سنیل کمار نے بتایا:

’’ہم نے سائنسی اور مکمل طور پر نتائج پر مرکوز طریقہ اختیار کیا تھا۔ ہماری حکمت عملی ابتدا ہی سے واضح تھی۔ اسکواٹ مقابلہ ختم ہونے تک ایکتا نے اپنی قریب ترین حریف پر 20 کلوگرام کی فیصلہ کن برتری حاصل کر لی تھی۔ اس کے بعد بینچ پریس مقابلے میں بھی اس برتری کو کامیابی سے برقرار رکھا گیا۔ آخر میں 150 کلوگرام ڈیڈ لفٹ کی پہلی کوشش کامیاب ہونے کے ساتھ ہی ایکتا نے ہندوستان کے لیے تاریخی طلائی تمغہ یقینی بنا دیا۔‘‘

’وطن کے لیے طلائی تمغہ جیتنا ہی واحد مقصد تھا‘

ایکتا کی شاندار کامیابی پر ان کے شریک حیات اجے تومر نے جذباتی انداز میں کہا کہ عالمی چیمپئن شپ سے پہلے ان کی تیاریاں انتہائی سخت اور نظم و ضبط پر مبنی تھیں۔ ان کا صرف ایک خواب اور مقصد تھا کہ وہ اپنے وطن ہندوستان کے لیے عالمی سطح پر طلائی تمغہ جیتیں۔ ایک طرف سرکاری افسر کی حیثیت سے ملک کی خدمت اور دوسری طرف کھیلوں کے عالمی میدان میں ہندوستان کا وقار بلند کرنے والی ایکتا بشنوئی کی یہ کامیابی آج ملک کی کروڑوں خواتین اور نوجوانوں کے لیے تحریک کا ذریعہ بن گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Amit Shah Punjab Visit: منشیات کے بحران اور انتخابی تیاریوں کے درمیان امت شاہ 20 اکتوبر کو پنجاب کا کریں گے دورہ

منشیات کی اسمگلنگ، منظم جرائم اور آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے درمیان مرکزی وزیر…

40 minutes ago

Gwalior Tragedy: گوالیار حادثہ: شیٹلا ماتا مندر کے قریب ٹرک کی زد میں آکر 14 افراد ہلاک، امت شاہ نے تعزیت کا کیا اظہار

مدھیہ پردیش کے گوالیار میں شیٹلا ماتا مندر کے قریب ٹرک کی زد میں آکر…

1 hour ago

Neha Bora Controversy: نیہا بورا، عمر خالد اور بنگلہ دیش کا کیا تعلق ہے؟ احتجاج کے درمیان کیسے گھریں آئیسا کی صدر

جے این یو میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا کے عمر…

2 hours ago