کے ایس بھارت ، بمراہ ٹیم انڈیا سے باہر جاسکتے ہیں؟ تیسرے ٹیسٹ سے پہلے ٹیم انڈیا میں بڑی تبدیلی آخر کیوں
IND vs ENG 3rd Test: بھارت اور انگلینڈ کے درمیان پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا تیسرا میچ 15 فروری سے راجکوٹ میں کھیلا جائے گا۔ اب تک دو میچوں کے بعد سیریز 1-1 سے برابر ہے۔ لیکن تیسرے ٹیسٹ سے پہلے ٹیم انڈیا میں کئی تبدیلیوں کے حوالے سے اہم اپ ڈیٹس سامنے آئیں ہیں ۔جو واقعی چونکا دینے والی ہے ۔ ذرالئع کی معنی توکے ایس بھارت اور بمراہ آؤٹ ہو سکتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ آخر یہ سارا معاملہ کیا ہے۔
کے ایس بھارت سے بمراہ تک یہ تبدیلیاں یقنی طور پر ہو سکتی ہے
‘ٹائمز آف انڈیا’ کی رپورٹ کے مطابق وکٹ کیپر بلے بازکے ایس بھارت راجکوٹ میں کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ سے باہر ہو سکتے ہیں۔ نوجوان وکٹ کیپر بلے باز دھرو جریل تیسرے میچ میں بھرت کی جگہ ٹیسٹ ڈیبیو کر سکتے ہیں۔ اب تک کھیلے گئے دونوں ٹیسٹوں میں بھرت نے 41، 28 اور 17، 06 رنز بنائے ہیں۔
اس کے علاوہ جسپریت بمراہ کے حوالے سے رپورٹ میں ایک بڑا اپ ڈیٹ دیا گیا ہے۔ قابل ذکر با ت یہ ہے کہ بمراہ کو چوتھے ٹیسٹ کے لیے آرام دیا جا سکتا ہے۔ اب تک بمراہ نے لگاتار دونوں ٹیسٹ کھیلے ہیں۔ ایسے میں تیسرے ٹیسٹ کے بعد انہیں کام کے بوجھ کےچلتے آرام دیا جا سکتا ہے۔
بتایا گیا کہ اویش خان کو آخری تین ٹیسٹ کے لیے ہندوستانی ٹیم سے کیوں ڈراپ کیا گیا۔ اویش پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں اسکواڈ کا حصہ تھے ۔لیکن انہیں ایک بھی میچ کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔ اب انہیں رنجی ٹرافی کھیلنے کے لیے اسکواڈ سے باہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ بورڈ کچھ کھلاڑیوں سے خوش نہیں ہے کیونکہ وہ رنجی ٹرافی نہیں کھیل رہے ہیں۔
تیسرا ٹیسٹ اسپن کے ساتھ سست پچ پر ہوگا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ راجکوٹ میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ کے لیے اسپن والی سست پچ متعارف کرائی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس
چھتیس گڑھ اور مہاراشٹر میں ہتھیار چھوڑ کر مرکزی دھارے میں واپس آنے والے 210…
سپریم کورٹ نے 2008 کے احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکوں کے معاملے میں سزائے…
شریئس ایئر کی کپتانی میں ٹیم انڈیا پاکستان کے خلاف اپنے سابقہ ریکارڈ کو برقرار…
ایشین گیمز 2026 کے دوسرے سیمی فائنل میں بھارتی کرکٹ ٹیم نے شاندار کارکردگی کا…
فلائی دبئی کی پرواز میں بڑے فضائی حادثے کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کرنے…
جسٹس سوریہ کانت نے اپنے نام سے منسوب ایک الگ اینٹی ریزرویشن بیان کی تردید…