آئی سی سی نے ٹی-20 ورلڈ کپ سے بنگلہ دیش کو باہر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اورانٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے درمیان لڑائی کا بڑا نقصان بنگلہ دیش کواٹھانا پڑسکتا ہے۔ آئی پی ایل سے اپنے ایک کھلاڑی کو باہرکرنے سے برہم ہوئی بنگلہ دیشی حکومت نے دنیا میں کرکٹ چلانے والے دو سب سے بڑے اداروں آئی سی سی اوربی سی سی آئی سے ٹکراومول لے لیا۔ باربارسمجھانے، منانے اوربھروسہ دلانے کے باوجود بنگلہ دیش حکومت نے ٹی-20 ورلڈ کپ 2026 کے لئے اپنی ٹیم کو ہندوستان بھیجنے سے انکارکردیا۔ اس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑسکتا ہے اوریہ صرف ورلڈ کپ سے باہرہونے یا کروڑوں کی کمائی چھوڑنے تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ایک بڑے ٹورنا منٹ سے بھی اسے ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے۔
مستفیض الرحمٰن کوآئی پی ایل سے باہرکرنے کے بی سی سی آئی کے فیصلے کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے ٹی-20 ورلڈ کپ کے لئے ہندوستان نہیں آنے کی دھمکی دی تھی اوراپنے میچ سری لنکا یا کسی دوسرے وینیومیں شفٹ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ بی سی سی آئی اورآئی سی سی نے بنگلہ دیش بورڈ کوبہت سمجھا، مگربورڈ کوبنگلہ دیشی حکومت کا بھی ساتھ ملا اورپھراس نے بڑا فیصلہ لے لیا۔ آخرکارآئی سی سی نے سختی دکھاتے ہوئے واضح کردیا کہ اگربنگلہ دیش کو کھیلنا ہے توہندوستان میں کھیلنا ہوگا، نہیں تو اس کی جگہ دوسری ٹیم کوموقع دیا جائے گا۔
بنگلہ دیش سے چھن جائے گی میزبانی
آخرکاریہی ہوا بھی ہے اوراب بنگلہ دیش کو اس کا بڑا نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔ ابھی تک تمام قیاس آرائیاں اس بات پرتھیں کہ بنگلہ دیش کوورلڈ کپ میں اپنی جگہ گنوانی پڑے گی اوراس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو موقع ملے گا۔ ساتھ ہی آئی سی سی ریوینیوسے بھی اس کوہاتھ دھونا پڑسکتا ہے۔ مگران سب کے علاوہ ایک بڑا نقصان بنگلہ دیش اٹھانا پڑسکتا ہے اوروہ ہے مستقبل میں ہونے والے آئی سی سی ٹورنامنٹس کی میزبانی۔ بنگلہ دیش نے کچھ سال پہلے ہی ٹی-20 ورلڈ کپ کی میزبانی کی تھی، جبکہ ورلڈ کپ 2011 میں بھی وہ ہندوستان-سری لنکا کے ساتھ میزبان تھا۔ ٹورنامنٹس کے کامیاب انعقاد اورملک میں اس گیم کی مقبولیت کودیکھتے ہوئے آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو ایک اوربڑے ٹورنا منٹ کا میزبان بنایا تھا۔ اصل میں بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ 2031 کے لئے شریک میزبان بنایا گیا ہے اوراتفاق سے اس کی میزبانی اسے ہندوستان کے ساتھ ہی ملی ہے۔ اب اگرآئی سی سی کسی بھی طرح کی کارروائی بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ پرکرتا ہے تواس میں اس ٹورنا منٹ کی میزبانی چھیننا بھی شامل ہوسکتا ہے۔ اگرایسا ہوتا ہے توبنگلہ دیشی بورڈ کے ہاتھوں سے کمائی ک ایک اوربڑا موقع پھسل جائے گا۔
کروڑوں کا نقصان، پابندی کا خطرہ
آپ کو بتا دیں کہ آئی سی سی کی طرف سے بنگلہ دیش کوکئی طرح کی سزائیں مل سکتی ہیں۔ ورلڈ کپ کھیلنے سے انکارکرنے پربنگلہ دیش کو آئی سی سی سے ملنے والا سالانہ ریوینیو، جو تقریباً 325 کروڑ بنگلہ دیشی ٹکا ہے، بند ہوسکتا ہے۔ اگرپورا نہیں تواس کی بڑی رقم جرمانے کے طورپرکاٹی جاسکتی ہے۔ اتنا ہی نہیں، ٹورنا منٹ میں حصہ لینے اورہرمیچ جیتنے پرملنے والی انعامی رقم بھی اس کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ اتنا ہی نہیں، اس کا اثربنگلہ دیشی خواتین ٹیم اورانڈر-19 ٹیم پرپڑسکتا ہے، جنہیں اگلے کچھ سال کے لئے آئی سی سی ٹورنا منٹ سے پابندی لگائی جاسکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…