اسپورٹس

A new era of cricket will begin in the valley: وادی میں کرکٹ کا نیا دور شروع ہوگا، نوجوانوں کے خواب ہوں گےپورے

اگر آپ میں کچھ کرنے کا جذبہ ہے تو آپ دنیا کی فکر کیے بغیر کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ آپ کا جذبہ اور آپ کی لگن آپ کو بہت کچھ کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ دونوں ہاتھوں کے بغیر کرکٹ کھیلنا خوابوں میں بھی ناممکن ہے لیکن عامر حسین لون نے یہ حقیقت میں کر دکھایا ہے ۔وہ جموں و کشمیر کے اننت ناگ ضلع کے بیجبہاڑہ کے رہنے والے ہیں۔ وہ جموں و کشمیر پیرا کرکٹ ٹیم کے کپتان ہیں۔ عامر ایک معذور کرکٹر ہیں اور 2013 سے پیشہ ورانہ کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ آج وہ جموں و کشمیر کی پیرا کرکٹ ٹیم کے کپتان ہیں۔

بڑے صنعت کار گوتم اڈانی اور کرکٹ کے بھگوان کہلانے والے سچن تندولکر نے بھی عامر حسین لون کے عزم وحوصلے کی تعریف کی ہے، عامر کا ایک خواب ہے، وہ اننت ناگ کے واگہامہ-بجبہاڑہ میں ایک انڈور کرکٹ اکیڈمی بنانا چاہتے ہیں اور وہاں کے غریب نوجوانوں کو مفت میں کرکٹ سکھانا چاہتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں میں کرکٹ کا کمال ہے، لیکن وہ غریب گھرانوں سے ہیں اور کرکٹ کی تربیت حاصل کرنے کے لیے کہیں نہیں جا سکتے۔ اڈانی گروپ نے ہمیشہ عامر کے کرکٹ کے شوق اور منفی حالات میں زندگی کے تئیں ان کے مثبت نقطہ نظر کی حوصلہ افزائی کی ہے، اس بار بھی غریب نوجوانوں کے خوابوں کو پورا کرنے کی کوشش میں، اڈانی فاؤنڈیشن نے انڈور کرکٹ اکیڈمی بنانے کے لیے 67 لاکھ 60 ہزار روپے کا عطیہ دیا ہے۔

فاؤنڈیشن سے مدد ملنے کے بعد عامر حسین لون نے کرکٹ اکیڈمی کا مکمل بلیو پرنٹ تیار کر لیا ہے، انہیں کھیل کے میدان کے لیے 2 کنال زمین درکار ہے جہاں وہ اکیڈمی کے لیے 90بائی 40 فٹ کی عمارت بنانا چاہتے ہیں۔ عامر اننت ناگ، پلوامہ، شوپیاں کے بجبہاڑہ، کتریتانگ، واگھاما، سنگم، مرہامہ، دادو، تکیبل، کنڈی پورہ، کھرم، سرہامہ، شالیگام، پنچ پورہ اور دیگر اضلاع میں رہنے والے کھلاڑیوں کو تربیت دیں گے۔ اس کے علاوہ، ان کی اکیڈمی تقریباً 100 کھلاڑیوں کا انتخاب کرے گی اور انہیں رنجی ٹرافی اور دیگر ٹرائلز کے لیے ایک سال تک تربیت دے گی۔ پلان کے مطابق تین شفٹوں میں ٹریننگ دی جائے گی جس میں نائٹ شفٹ بھی شامل ہو گی، عامر انڈر 16، انڈر 19 کھلاڑیوں کو تربیت دینا چاہتے ہیں جو بھارت کے لیے رنجی ٹرافی اور انٹرنیشنل کرکٹ کھیلیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں میں اسپن اور تیز گیند بازی، سوئنگ کا ٹیلنٹ موجود ہے جو ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے لیے فائدہ مند ہے۔

جب کہ لوگ زندگی میں چھوٹی چھوٹی پریشانیوں کی وجہ سے ہار ماننے لگتے ہیں، عامر نے 8 سال کی عمر میں اپنے دونوں ہاتھ کھونے کے بعد بھی امید نہیں ہاری۔ اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے لگن اور جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے رہے اورآج وہ اپنے خوابوں کی تکمیل سے آگے نکل چکے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Delhi NCRWeather Update: این سی آر میں گرمی سے ملے گی معمولی راحت، لیکن بڑھتی فضائی آلودگی سے سانس کے مریضوں کو خطرہ

25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…

1 hour ago

?Will UPI and Phone Banking Work: بینک ہڑتال کا الرٹ، کیا یو پی آئی اور فون بینکنگ کی سہولیا ت جاری رہیں گی؟

پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…

2 hours ago

Azamgarh triple murder: یوپی میں  دو پجاریوں، بیوی اور بیٹے کے قاتل کا انکاؤنٹر ہلاک، اعظم گڑھ میں 8 گھنٹے بعد یرغمالی ڈرامہ ختم

وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نوین اروڑہ نے بتایا کہ پولیس نے تقریباً…

3 hours ago