سوشل میڈیا کے رجحانات

New Covid Cases: دہلی میں ستمبر کے بعد پہلی بار ایک دن میں کورونا کے 300 نئے معاملے، مثبت شرح 13.89 فیصد کے قریب

New Covid Cases: ملک میں ایک بار پھر کورونا وائرس نے زور پکڑ لیا ہے۔ بدھ کو دہلی میں کورونا کے 300 نئے معاملے سامنے آئے۔ اس دوران 2 مریضوں نے دم توڑ دیا ہے۔
گزشتہ سال ستمبر کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب قومی راجدھانی میں کورونا کے 300 نئے معاملے سامنے آئے ہیں۔ اس وقت دہلی میں پوزیٹو معاملے کی شرح 13.89 فیصد ہے۔

اس پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے دہلی کے سی ایم کیجریوال حکومت اور ایک بار پھر کورونا کے خلاف ایکشن کے موڈ میں آگئی ہے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال ہدایت پر وزیر صحت سوربھ بھاردواج نے کورونا انکفشین کو لے کر ایمرجنسی میٹنگ بلائی ہے۔

دہلی میں کورونا کے 300 ایکٹیو کیسز

دہلی میں کورونا کے 300 ایکٹیو کیسز ہیں۔ ان میں سے 452 ہوم آئسولیشن میں ہیں اور 54 اسپتال میں داخل ہیں۔ اسپتالوں میں داخل تمام 54 مریضوں میں سے 17 آئی سی یو میں ہیں۔ 21 مریض آکسیجن سپورٹ پر ہیں۔ تین مریض وینٹی لیٹر پر ہیں، انفیکشن کی شرح بڑھ کر 13.89 ہو گئی ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق 163 مریضوں کو ڈسچارج کیا گیا۔

اس سے پہلے بھی دہلی حکومت کے محکمہ صحت نے کورونا کے بڑھتے کیسز کو دیکھتے ہوئے دارالحکومت کے اسپتالوں کو ہائی الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔ اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لیے الگ وارڈز مختص کیے گئے ہیں۔ آئی سی یو بیڈز، وینٹی لیٹرز کے ساتھ آکسیجن کی فراہمی کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ آکسیجن کی وافر مقدار فراہم کرنے کے لیے پلانٹ کے آپریشن کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اسپتال میں دو وارڈ محفوظ کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک وارڈ میں کورونا کے مریضوں کو رکھا جائے گا جب کہ کورونا کی علامات والے مریضوں کو دوسرے وارڈ میں رکھا جائے گا۔ اگر ان مریضوں کی رپورٹ مثبت آتی ہے تو انہیں دوسرے وارڈ میں منتقل کر دیا جائے گا۔

ان دونوں وارڈوں میں 28-28 بستروں کی سہولت ہوگی۔ اس کے علاوہ ضرورت کی بنیاد پر وینٹی لیٹر اور آئی سی یو کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔ لوک نائک اسپتال میں کورونا کے مریضوں کے لیے 450 بستروں کی سہولت موجود ہے۔ ان میں آئی سی یو سمیت دیگر انتظامات کئے گئے ہیں۔ صفدرجنگ، ایمس، لیڈی ہارڈنگ، جی ٹی بی، ڈی ڈی یو سمیت دیگر اسپتال بھی اپنی سطح پر تیاری کر رہے ہیں۔

وزارت کا کہنا ہے کہ جب تک بیکٹیریل انفیکشن کا شبہ نہ ہو اینٹی بائیوٹک کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ گائڈ لائنس کے مطابق، لوگوں کو انفیکشن سے بچنے دوری بنانی چاہئے، ماسک کا استعمال کریں،اپنے ہاتھوں کو صاف ستھرا  رکھیں یعنی صفائی پر توجہ دینی چاہیے۔ ماہرین صحت نے لوگوں کو بھیڑ والی جگہوں پر ماسک استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ایک دوسرے سے فاصلے بنا کررکھیں۔ اگر آپ کو زکام یا بخار کے ساتھ سانس لینے میں دشواری محسوس ہو تو فوری طور پر ڈاکٹروں سے رجوع کریں۔ ڈاکٹروں نے لوگوں کو دفاتر کے اندر بھی ماسک
پہننے کا مشورہ دیا ہے۔

-بھارت ایکسپریس

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Prime Minister Modi extended his best wishes: کرناٹک اور کیرالہ کے یوم تاسیس پر وزیراعظم مودی، وزیرداخلہ امت شاہ سمیت کئی مرکزی رہنماؤں کی مبارک باد

وزیراعظم مودی نے کرناٹک اور کیرالہ ریاستوں کی ثقافتی وراثت اور ترقیاتی کامیابیوں کو سراہا۔…

1 hour ago

Germany’s Gen Z Protests: فرانس کے بعد جرمنی میں بھی جن زی مظاہرین کا تشدد، دکانوں میں لوٹ مار اور آگ زنی

سربیا میں طلبہ ایک طویل عرصے سے اقتدار میں موجود لیڈروں کو ہٹانے کی کوششوں…

1 hour ago

Ujjain Hotel Incident: مدھیہ پردیش کے اجین میں بڑا حادثہ، ہوٹل کے چیمبر میں دم گھٹنے سے 4 افراد کی موت

چیمبر میں گیس کا اخراج ہونے کے باعث تمام افراد بے ہوش ہوگئے۔ واقعے کی…

2 hours ago