وپرو نے نکالے 300 ملازمین
بھارت کی سب سے بڑی آئی ٹی کمپنیوں میں سے ایک وپرو نے بروز بدھ اپنے 300 ملازمین کو نوکری سے نکال دیا۔ وپرو کمپنی نے مون لائٹنگ کے الزام پر اتنی بڑی کارروائی کی ہے۔ وپرو کے چیئرمین رشد پریم جی نے اسے کمپنی کے ساتھ دھوکہ دہی قرار دیا ہے۔ رشد پریم جی نے کہا کہ کمپنی میں ایسے کسی ملازم کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے جو وپرو کے پے رول پر رہتے ہوئے مون لائٹنگ کرتا ہو۔ ایسے میں سوال اٹھنے لگے ہیں کہ یہ کون سی مون لائٹنگ ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کی نوکریاں ختم ہو رہی ہیں۔
یہ ہیں مسائل- ملازمتوں کی کمی، مہنگائی کے مقابلے میں تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونا اور بڑی بے یقینی کا دور۔ مینجمنٹ کنسلٹنگ فرم ڈیلوئٹ نے اپنے سروے میں پایا ہے کہ ہندوستان میں بالترتیب ‘Millennial’ اور ‘Generation Z’ کے تیس اور چالیس فیصد سے زیادہ نوجوان اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ‘سائیڈ جاب’ کرنے پر مجبور ہیں۔
ایک سال قبل اسی سروے میں دونوں نسلوں کے نصف سے زائد نوجوانوں نے کہا تھا کہ ان کے مسلسل تناؤ کی بنیادی وجوہات ملازمتیں، ذاتی معاشی حالات، خاندانی ضروریات اور ملازمت کے کم امکانات ہیں۔
اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل بی ایس پی میں بڑی سیاسی تبدیلی، مایاوتی نے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوئٹزرلینڈ کے صدر گائے پرمیلین کو بھارت کے مالا مال…
بالی ووڈ اداکار راج پال یادو کی مشکلات ایک بار پھر بڑھتی نظر آرہی ہیں۔…
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج کے دوران واقعہ، نامعلوم…
سوئس صدر گائے پرمیلن کے دورۂ ہند کے دوران دونوں ممالک کے درمیان پانچ اہم…
انڈیگو نے پیر کے روز اعلان کیا کہ ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف)…