اردو شاعری کی رنگین و نغمہ ریز فضا میں اگر کوئی نام سب سے زیادہ دلکش اور المیہ کا رنگ لیے ابھرتا ہے، تو وہ ہے اسرارالحق مجاز۔ وہی مجازجو خود کو جنس اُلفت کا طلب گار کہتے ہیں اور جو اپنی غزلوں اور نظموں میں ساز، جام اور شمشیر کو ایک خاص ترتیب میں ڈھالتے ہے۔
مجازؔ 1911 میں اودھ کے ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والد روشن خیال اور تعلیم یافتہ تھے، اس لیے مجازؔ کو بھی تعلیم کا ماحول ملا۔ لکھنؤ، آگرہ اور پھر علی گڑھ کی علمی و ادبی فضا نے ان کے مزاج کو ایک ایسا نغمگی آمیزلہجہ بخشا کہ وہ شاعری کی آواز بن گئے۔ وہ محض شاعر نہیں تھے، ایک رجحان، ایک طرز احساس کے ساتھ ساتھ ایک رومانوی انقلابی روح تھے۔
دفن کرسکتا ہوں سینے میں تمہارے راز کو
اور تم چاہو تو افسانہ بناسکتا ہوں میں
مجاز لکھنویؔ
ان کی نظم آوارہ جب گلیوں میں گونجی تو نوجوانوں کے دل اس کی دھن پر دھڑکنے لگے۔ وہ فیض، سردار جعفری، مخدوم اور ساحر جیسے ہمعصروں کے درمیان سب سے زیادہ مقبول شاعر بن گئے۔ وہ عاشق مزاج تھے، لیکن ان کی عشق پرستی میں ایک لطیف وقار اور ایک طہارت تھی۔ عصمت چغتائی نے علی گڑھ کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ لڑکیاں مجازؔ کے کلام کو سینے سے لگا کر سوتی تھیں — یہ ان کی رومانویت کی شدت کی ایک جھلک تھی۔
لیکن یہ روشن چہرہ بھی وقت کے ساتھ دھندلانے لگا۔ عشق کی ناکامی، بیروزگاری اور تنہائی نے انہیں شراب کی راہوں پر ڈال دیا۔ جوش ملیح آبادی نے لکھا کہ مجازؔ اپنی صلاحیتوں کا صرف ایک چوتھائی حصہ بروئے کار لا سکے۔ تین بار نروس بریک ڈاؤن سے گزرنے والے اس نازک دل شاعر نے زندگی کو بڑی خاموشی سے سہا، بغیر کسی شکوے کے، بغیر کسی احتجاج کے۔
مجازؔ اردو شاعری کا وہ چراغ ہے جو کم جلا، مگر اپنی روشنی میں سب کو جلتا ہوا دکھائی دیا۔ ان کا کلام اور ان کی شخصیت آج بھی ہمارے جذبات کے ساز پر بجتی ہے،ایک مسلسل دُھن کی طرح، جو وقت کے ساتھ مدھم نہیں پڑتی۔ 1955 کی ایک سرد رات، شراب کی محفل ختم ہوئی اور مجازؔ چھت پر تنہا رہ گئے۔ صبح ان کی لاش ملی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت منڈپم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اشوک سنگھل…
ہندوستان نے وراٹ کوہلی اور کپتان شبھمن گل کی شاندار سنچریوں کی بدولت اتوار کو…
گجرات کے کچھ میں واقع کھاوڑا رینیوایبل انرجی پارک کو ملا الگ پن کوڈ اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو کانگریس پر حملہ تیز کرتے ہوئے سابق…
سابق IAS افسر نے ایکس پر کئی امکانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا - ’بچے…
جسٹس سنجیو نرولا کی سربراہی والی بنچ نے ایک معاملے میں کہا کہ ذاتی قانون…