شعروشاعری

Asrarul Haq Majaz Poetry: دفن کرسکتا ہوں سینے میں تمہارے راز کو….اسرارالحق مجاز کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں

اردو شاعری کی رنگین و نغمہ ریز فضا میں اگر کوئی نام سب سے زیادہ دلکش اور المیہ کا رنگ  لیے ابھرتا ہے، تو وہ ہے اسرارالحق مجاز۔  وہی مجازجو خود کو جنس اُلفت کا طلب گار کہتے ہیں اور جو اپنی غزلوں اور نظموں میں ساز، جام اور شمشیر کو ایک خاص ترتیب میں ڈھالتے ہے۔

مجازؔ 1911 میں اودھ کے ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والد روشن خیال اور تعلیم یافتہ تھے، اس لیے مجازؔ کو بھی تعلیم کا ماحول ملا۔ لکھنؤ، آگرہ اور پھر علی گڑھ کی علمی و ادبی فضا نے ان کے مزاج کو ایک ایسا نغمگی آمیزلہجہ بخشا کہ وہ شاعری کی آواز بن گئے۔ وہ محض شاعر نہیں تھے، ایک رجحان، ایک طرز احساس کے ساتھ ساتھ ایک رومانوی انقلابی روح تھے۔

دفن کرسکتا ہوں سینے میں تمہارے راز کو

اور تم چاہو تو افسانہ بناسکتا ہوں میں

مجاز لکھنویؔ

 

ان کی نظم آوارہ جب گلیوں میں گونجی تو نوجوانوں کے دل اس کی دھن پر دھڑکنے لگے۔ وہ فیض، سردار جعفری، مخدوم اور ساحر جیسے ہمعصروں کے درمیان سب سے زیادہ مقبول شاعر بن گئے۔ وہ عاشق مزاج تھے، لیکن ان کی عشق پرستی میں ایک لطیف وقار اور ایک طہارت تھی۔ عصمت چغتائی نے علی گڑھ کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ لڑکیاں مجازؔ کے کلام کو سینے سے لگا کر سوتی تھیں — یہ ان کی رومانویت کی شدت کی ایک جھلک تھی۔

لیکن یہ روشن چہرہ بھی وقت کے ساتھ دھندلانے لگا۔ عشق کی ناکامی، بیروزگاری اور تنہائی نے انہیں شراب کی راہوں پر ڈال دیا۔ جوش ملیح آبادی نے لکھا کہ مجازؔ اپنی صلاحیتوں کا صرف ایک چوتھائی حصہ بروئے کار لا سکے۔ تین بار نروس بریک ڈاؤن سے گزرنے والے اس نازک دل شاعر نے زندگی کو بڑی خاموشی سے سہا، بغیر کسی شکوے کے، بغیر کسی احتجاج کے۔

مجازؔ اردو شاعری کا وہ چراغ ہے جو کم جلا، مگر اپنی روشنی میں سب کو جلتا ہوا دکھائی دیا۔ ان کا کلام اور ان کی شخصیت آج بھی ہمارے جذبات کے ساز پر بجتی ہے،ایک مسلسل دُھن کی طرح، جو وقت کے ساتھ مدھم نہیں پڑتی۔ 1955 کی ایک سرد رات، شراب کی محفل ختم ہوئی اور مجازؔ چھت پر تنہا رہ گئے۔ صبح ان کی لاش ملی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Five Major Tragedies: تقریباً 24 گھنٹوں میں 5 خوفناک حادثے، 50 سے زائد اموات: کولکاتا سے گوالیار تک، بے قابو رفتار نے مچائی تباہی

نوراتری کے دوران مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، راجستھان اور اتر پردیش میں پیش آنے والے…

48 minutes ago

Kolkata Durga Pandal Stampede: کولکاتا درگا پنڈال بھگدڑ معاملے میں پولیس نے درج کیا مقدمہ، منتظمین سمیت 7 افراد گرفتار

وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے اعلان کیا کہ ریاستی حکومت ہر مہلوک کے خاندان کو…

2 hours ago

Protests in Italy: اٹلی میں حکومت مخالف مظاہرے پُرتشدد، میلونی نے کہا-  پُرامن احتجاج کا احترام، تشدد برداشت نہیں

فرانس اور اسپین میں ہونے والی تحریکوں سے متاثر ہوکر ان دنوں اٹلی میں مختلف…

4 hours ago

Gwalior Tragic Incident: گوالیار میں بے قابو ٹرک کا قہر، شیتلا ماتا مندر کے قریب کئی دکانوں سے ٹکرایا، 12 افراد ہلاک، 5 کی حالت تشویش ناک

تاریخی شیتلا ماتا مندر میں نوراتری کے دوران لاکھوں عقیدت مند درشن کے لیے پہنچتے…

5 hours ago