ندا فاضلی اردو کے ممتاز شاعر، فلمی گیت نگار اور نثر نگار تھے جن کا اصل نام مقتدا حسن تھا۔ وہ 12 اکتوبر 1938 کو دہلی میں پیدا ہوئے اور تقسیم ہند کے بعد بھارت میں ہی مقیم رہے جبکہ ان کے خاندان کے زیادہ تر افراد پاکستان چلے گئے۔ ندا فاضلی کی تعلیم گوالیار میں ہوئی اور شاعری کی طرف ان کا رجحان ایک مندر میں سنے گئے بھجن سے پیدا ہوا۔ وہ صرف اردو ہی نہیں بلکہ ہندی، فارسی، ہندوی اور مغربی ادب سے بھی متاثر تھے۔ اہم ادیب جن سے وہ متاثر تھے ان میں غالب، کبیر، میرا، ایلیٹ، چیخوف اور ٹکاساکی شامل ہیں۔
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
ندافاضلیؔ
ندا فاضلی کا کلام انسانیت، روزمرہ کی زندگی، مذہبی رواداری اور تنہائی جیسے موضوعات پر مشتمل ہے۔ ان کی شاعری میں سادگی، درد، اور فلسفہ ایک خاص انداز سے جھلکتا ہے۔ ان کے معروف اشعار میں “دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے* مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے” عوام میں بے حد مقبول ہوا۔ انہوں نے بالی وڈ فلموں جیسے سرفروش، آپ تو ایسے نہ تھے اور سُر کے لیے مشہور گیت لکھے۔ مشاعروں میں بھی وہ ایک اہم آواز کے طور پر جانے جاتے تھے۔
ندا فاضلی کو پدم شری اور ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سمیت کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ انہوں نے تقریباً 24 کتابیں لکھیں اور ان کا کلام کئی تعلیمی نصاب کا بھی حصہ ہے۔ 8 فروری 2016 کو ممبئی میں دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوا۔ ندا فاضلی ایک ایسے شاعر تھے جنہوں نے اپنے فن کے ذریعے محبت، رواداری اور انسانیت کا پیغام دیا اور ادب و سماج پر گہرا اثر چھوڑا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
دوسرے ٹی 20 مقابلے میں ویسٹ انڈیز نے ہندوستان کو 6 وکٹوں سے شکست دی۔…
جزائر انڈمان اور نکوبار کے لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے سوراج دیپ کا دو…
آئی پی ایس افسر ونئے کمار چوبے کو نمایاں خدمات کے لیے صدر جمہوریہ کے…
10 اکتوبر کو دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے مجوزہ مارچ سے…
مرکزی حکومت کی وزیر اعظم روزگار تخلیق پروگرام اسکیم سے چھتیس گڑھ کے نوجوانوں کو…
راہل گاندھی نے کہا کہ اب مرکزی حکومت کو برطرف کرنا ہوگا، کیونکہ انہیں انتخابی…