علاقائی

Rahul Gandhi in trouble again: راہل گاندھی کے غدار والے بیان پر کیا جائیں گے جیل؟ بی جے پی لیڈر نے آدھی رات تھانے میں درج کرائی ایف آئی آر

نئی دہلی : ملک کی سیاست میں ایک بار پھر لفظی جنگ نے شدید اور قانونی رخ اختیار کر لیا ہے۔ کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے ایک عوامی پروگرام میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف مبینہ طور پر قابل اعتراض الفاظ استعمال کرنے کے بعد سیاسی ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے۔ راہل گاندھی کی جانب سے دونوں لیڈروں کے لیے “غدار” جیسے سخت لفظ کے استعمال پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور این ڈی اے نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔راہل گاندھی کے بیان کے سامنے آتے ہی بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے دہلی ترجمان ابھیشیک دوبے نے ان کے خلاف محاذ کھول دیا۔ وہ آدھی رات کو دہلی کے تگڑی تھانے پہنچے اور راہل گاندھی کے خلاف تحریری شکایت درج کرائی۔ شکایت میں پولیس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف غیر مہذب زبان استعمال کرنے کے الزام میں راہل گاندھی پر بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی سنگین دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی جائے۔

شکایت کے مطابق یہ تنازع 20 مئی 2026 کو منعقد ایک عوامی پروگرام سے جڑا ہوا ہے۔ الزام لگایا گیا ہے کہ راہل گاندھی نے عوامی اسٹیج سے ملک کے اعلیٰ آئینی عہدوں پر فائز رہنماؤں کے لیے “غدار” لفظ استعمال کیا، جو جمہوری اور آئینی اقدار کے خلاف ہے۔بی جے پی کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اشتعال انگیز اور غیر مہذب بیانات سے معاشرے میں نفرت اور کشیدگی پھیل سکتی ہے، اس لیے اس معاملے میں سخت قانونی کارروائی ضروری ہے۔ پارٹی لیڈروں کا ماننا ہے کہ عوامی پلیٹ فارم پر سیاسی اختلافات کے باوجود زبان کی شائستگی برقرار رہنی چاہیے۔راہل گاندھی کے بیان پر بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری ترون چغ نے بھی سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ راہل گاندھی مایوسی اور بے بسی میں اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں اور وہ غیر ملکی طاقتوں کو خوش کرنے کے لیے ملک اور اس کی قیادت کے خلاف زبان استعمال کر رہے ہیں۔

مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے بھی راہل گاندھی کے بیان کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وزیر اعظم ملک کے 140 کروڑ عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن ان کے لیے اس طرح کی غیر مہذب زبان استعمال کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔فی الحال پولیس کی جانب سے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کیے جانے یا نہ کیے جانے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم اس سیاسی تنازع نے ایک بار پھر ملک کی سیاست کو گرما دیا ہے۔

بھارت ایکسیریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Home Secretary Unconditional Apology: کیا مرکزی داخلہ سکریٹری نے سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی؟ جانیے کیا ہے قانونی ضابطہ

توہینِ عدالت کے نوٹس کے جواب میں حلف نامے میں معافی کے ذکر سے متعلق…

33 minutes ago

Prime Minister Narendra Modi: کھیلو انڈیا اور اسپورٹس فیڈریشنز کو مضبوط بنانے کے لیے 36 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ مختص: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے میجر دھیان چند اسٹیڈیم میں ایشین گیمز 2026 کے بھارتی…

1 hour ago